مفتی صاحب! میری عمر تقریباً 21 اکیس سال ہے، مفتی صاحب مثال کے طور پر میری مہینہ کی کی تنخواہ 1 ایک لاکھ ہے، تو ان ایک لاکھ میں میری امی ابو کا اور میری بہنوں کا اور میرے اور رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا اور غریبوں کا کتنا حق ہوتا ہے؟ اور کس کس کا کتنا حق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟
واضح ہو کہ ہرشخص اپنی کمائی کا خود مالک ہوتاہے، اس میں والدین یا کسی اور رشتہ داروں کا شرعاً کوئی حق متعین نہیں ہوتا، البتہ اس کے زیر کفالت موجود افراد کا نان نفقہ وغیرہ کی ادائیگی اس کے ذمہ لازم ہوتی ہے۔ لہذا سائل اپنی تنخواہ کی مد میں ملنے والی رقم کا خود مالک ہے ، اس میں ان کے والدین یا بہن ، بھائی یا کسی کوئی رشتہ دار متعین مقدار میں حصہ کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔
تاہم اگرسائل کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کوئی ضرورت مند، محتاج ہوں تو سائل پر ان کا نفقہ لازم ہوگا جس کا تعین وقت اور ضرورت کے لحاظ سے سائل خود کرسکتا ہے، البتہ ضرورت مند پڑوسیوں اور غریبوں کے ساتھ تعاون کرنا نفلی صدقہ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے لئے سائل حسب سہولت اور حسب استطاعت کوئی بھی رقم خرچ کرسکتاہے،اس کا متعین ہونا ضرورت نہیں، بلکہ وہ موقع محل کے لحاظ سے کم وپیش ہوسکتی ہے۔
کما فی التیسیر بشرح الجامع الصغیر: عن أبي هريرة كل أحد أحق بماله من والده وولده والناس أجمعين) لا يناقضه أنت ومالك لأبيك لأن معناه إذا احتاج لماله أخذه لا أنه يباح له ماله مطلقا الخ(2/ 210)۔
وفی الهندية: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا أو ذميين قدرا على الكسب أو لم يقدرا (إلی قوله) وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية وبه أخذ الفقيه أبو الليث وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري الخ (1/ 564)۔
و في الهداية شرح البداية: وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه أما الأبوان فلقوله تعالى { وصاحبهما في الدنيا معروفا ) الخ ( 2/ 46)۔