کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ جو شخص مسلسل اپنے پڑوسیوں کو تنگ کرتا ہو، اور حقوق العباد ضائع کرتا ہو، اور یہ گمان امید رکھے کہ اللہ پاک اپنے فضل سے اس کی مغفرت فرمادیں گے، کیا یہ بات ٹھیک ہے ؟ میں نے تو یہ سنا ہے کہ حقوق العباد کا بدلہ نیکیاں دے کر پورا کیا جائے گا، اور پھر اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے شریعت کی رو سے کیا ٹھیک ہے؟
شخص مذکور اپنے مذکور طرز عمل کی وجہ سے بہت سخت گناہ گار ہو رہا ہے، جب کہ محض اس امید پر قصداً گناہ کرنا کہ اللہ غفور الرحیم ہے، معاف کردےگا، بہت بڑی جسارت ہے جس سے شخص مذکور کو احتراز لاز م ہے ، اور اس سلسلہ میں سائل نے جو سنا ہے وہی درست ہے۔