مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میرے بھائی نے جاب چھوڑ دی، اور اب جب جاب ملتی ہے، تو کبھی کہتا ہےتنخواہ کم ہے، کبھی کہتا بہت مشکل ہے،سات مہینوں سے جاب نہیں کرتا گھر بیٹھا رہتا ہے،سب بہن بھائیوں نے کچھ مدد کردی، اب سب کہتے ہیں کہ خود کام کرو ہم کچھ نہیں دیں گے، ایسی صورت میں کیا بہن بھائیوں کو اُسکی مدد کرتے رہنا چاہیئے یا نہیں ؟شکریہ
واضح ہوکہ آدمی کے جوان (بالغ) اور کمانے کے قابل ہونے تک اس کا نان ونفقہ اسکے والد پر لازم ہوتاہے، اور بالغ ہونے کے بعد جب وہ کمانے لائق ہوجائے تو اس کا نان ونفقہ کسی کے ذمہ لازم نہیں ہوتا، بلکہ خود اس بندے پر لازم ہوتاہے کہ وہ اپنے لئے رزق ومعاش تلاش کرے، اور اپنا گزر بسر کرے، لہذا سائلہ کا بھائی جب کمانے کے قابل ہے، تو فقط سستی اور کاہلی کی بنیاد پر کام کاج نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں اس کاخرچہ سائلہ سمیت کسی بھی بھائی بہن پر لازم نہیں، بلکہ اسے چاہیئے کہ وہ خود اپنے نان ونفقہ کا انتظام کرے اور کسی پر بوجھ نہ بنے۔
کما فی الھندیۃ: الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة ثم في الذكور إذا سلمهم في عمل فاكتسبوا أموالا فالأب يأخذ كسبهم وينفق عليهم الخ (ج1 صـ562 کتاب الطلاق الباب السابع الفصل الرابع ط: دار الفکر)۔
وفی المبسوط لسرخسی: وإن كانوا ذكورا بالغين لم يجبر الأب على الإنفاق عليهم لقدرتهم على الكسب، إلا من كان منهم زمنا، أو أعمى، أو مقعدا، أو أشل اليدين لا ينتفع بهما، أو مفلوجا، أو معتوها فحينئذ تجب النفقة على الوالد لعجز المنفق عليه عن الكسب، وهذا إذا لم يكن للولد مال فإذا كان للولد مال فنفقته في ماله؛ لأنه موسر غير محتاج الخ (ج5 صـ223 باب النفقۃ ذوی الارحام ط: دار المعرفۃ)۔