حضرات! ساس اور سسر کے جوحقوق شریعت سے ثابت ہیں جو نہ کرنے سے بہو کی پکڑ ہوگی، وضاحت فرمادیں ، (2) شادی کے بعد حقیقی والدین کے ،بیٹی کے ذمہ کیا حقوق ہیں؟والدہ کا انتقال ہو چکا ہے، والد اکیلے ہیں ، مگر ان کے پاس جانے سے قاصر ہوں۔
ساس ،سسر کی حیثیت نسبتی ماں ،باپ کی ہے اور ان کے حقوق عام مسلمانوں سے بہت زیادہ ہیں ، جبکہ عام مسلمانوں کے حقوق یہ ہیں کہ اگر ان سے خطاء ہوجائے تو ان کی خطاء کو معاف کیا جائے، اس کے رونے پر رحم کیا جائے، اس کے عیب کو ڈھانکا جائے، اس کے عذر کو قبول کیا جائے، اس کی تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کی جائے، ہمیشہ اس کی خیر خواہی کی جائے، اس کے عہد کا خیال رکھا جائے، بیمار ہو تو ا ن کی بیمار پرسی کی جائے، مرجائے تو اس کے لیے دعا کی جائے، اس کی احسان کے بدلے احسان کیا جائے، اس کی نعمت کا شکر گزار ہو، ضرورت کے وقت اس کی مدد کرے، ضرورت کے وقت اس کا کام کردیا کرے، اس کی بات کو سنا جائے، اس کی سفارش کو قبول کیا جائے، اس کو امداد سے نا امید نہ کرے، وہ چھینک کر الحمد اللہ کہے، تو جواب میں یرحمک اللہ ، اس کے ساتھ احسان والا معاملہ کرے، اگر وہ اس کے بھروسہ قسم کھا بیٹھے تو اس کو پورا کردے، اگر ان پر کوئی ظلم کرتا ہو، اس کی مدد کرے، اگر وہ کسی پر ظلم کرتا ہو ،تو روک دے،، اس کے ساتھ محبت کرے دشمنی نہ کرے، ملاقات کے وقت اس کو سلام کرے اور اگر اس دوران مصافحہ بھی کرے تو اور بہتر ہے، اگر باہم اتفاقا کچھ اس کو اچھی بات بتلائیے، بری بات سے منع کرے ، اس کی غیبت نہ کرے،اس کو کسی طرح نقصان نہ پہنچائے نہ مال میں نہ آبرو میں ، اس کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے(ماخوذ از بہشتی زیور بتغیر یسیر)، اس لیے بہو اورداماد کو چاہیے کہ وہ ان حقوق سے بڑھ کر اپنے ساس سسر کا لحاظ کریں۔
(2) شادی کے بعد بھی حقیقی والدین کا حق ختم نہیں ہوتا، بلکہ ان کی ممکنہ خدمت ان سے ملاقات، اور ان کی خیر خبر معلوم کرتے رہنا اور حسب طاقت ان کی معاونت کرنا شادی شدہ اولاد پر بھی لازم ہے۔
کما فی المرقاۃ المفتاتیح: وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ» . (3/1120 رقم الحدیث 1525)۔
وفی الدرالمختار: (ولا يمنعها من الخروج إلى الوالدين) في كل جمعة إن لم يقدرا على إتيانها(الی قولہ) (ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة، (الی قولہ) (ويمنعهم من الكينونة) وفي نسخة: من البيتوتة (الی قولہ) (عندها) به يفتى الخ (3/602)۔