السلام علیکم !
ایک مسئلہ پیش خدمت ہے کہ ، میرے سالے نے اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ اپنے گھر میں اس کی غیر موجودگی میں پکڑا ، وہ شخص سالے کے گھر پر موجود تھا، اس کے بعد تمام بہن بھائیوں اور بھاوجوں کے دباؤ کی وجہ سے میرے سالے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، کیونکہ سب نے کہا تھا کہ اگر تم نے طلاق نا دی تو ہم تم سے تعلق نہیں رکھیں گے، اور اس نے طلاق دے دی، جبکہ میرے ایک ساڑھو یعنی میری سالی کا شوہر اس طرح کی حرکات میں ملوث ہیں اور وہ ایک دو نہیں، بلکہ کئی ایک کے ساتھ اس گھناؤنی حرکت میں ملوث ہیں ، اور ان کو میرے سسرال کے تقریباً تمام لوگوں نے دیکھا ہے، بلکہ میری بیوی نے تو ان کو مارکیٹ میں پکڑا تھا ، اور جس عورت کے ساتھ پکڑا تھا اس کو تھپڑ بھی رسید کیا تھا، اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے سسرال کے تمام لوگ ان سے تو ملتے ہیں، اور اپنے گھر بھی بلواتے ہیں ، اور ان کے گھر بھی جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سالے کی بیوی کو طلاق دلوائی اور اس سے تعلق ختم کرنے کی دھمکیاں دیں، اور ساڑھو صاحب سے سب مل رہے ہیں، اب راہ نمائی فرمائیں کہ اس سلسلے میں شریعت کیا کہتی ہے کہ ، اب ساڑھو صاحب کے ساتھ کیا تعلقات رکھنا صحیح ہے ؟ کیا یہ منافقت کے زمرے میں نہیں آتا ؟ اور یہ کہ ہمیں تعلق رکھنا چاہیئے یا نہیں ؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں!
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اور واقعۃً سائل کا ہم زلف اور سالے کی بیوی غیر محارم کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث تھے ،تو اس کی وجہ سے دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ،ان پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں ۔
سائل کے سسرال والوں کو چاہیئے کہ ، اگر سائل کا ہم زلف ابھی بھی غیر محارم کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کئے ہوئے ہو ، اور سمجھانے کے باوجود باز نہ آئے ، تو اس سے بھی قطع تعلقی اختیار کریں ،آپس میں میل ملاپ سے اجتناب کریں ۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيعرض هَذَا و يعرض هذا و خيرهما الَّذِي يبْدَأ بِالسَّلَامِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ اھ(8/3146)۔
و فی شرحه مرقاۃ المفاتیح: قَالَ: وَ أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ مَنْ خَافَ مِنْ مُكَالَمَةِ أَحَدٍ وَ صِلَتِهِ مَا يُفْسِدُ عَلَيْهِ دِينَهُ أَوْ يُدْخِلَ مَضَرَّةً فِي دُنْيَاهُ يَجُوزُ لَهُ مُجَانَبَتُهُ وَ بُعْدُهُ، وَ رَبَّ صَرْمٍ جَمِيلٍ خَيْرٌ مِنْ مُخَالَطَةٍ تُؤْذِيهِ وَ فِي النِّهَايَةِ: يُرِيدُ بِهِ الْهَجْرَ ضِدَّ الْوَصْلِ، يَعْنِي فِيمَا يَكُونُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ عَتْبٍ وَ مَوْجَدَةٍ، أَوْ تَقْصِيرٍ يَقَعُ فِي حُقُوقِ الْعِشْرَةِ وَالصُّحْبَةِ دُونَ مَا كَانَ مِنْ ذَلِكَ فِي جَانِبِ الدِّينِ، فَإِنَّ هِجْرَةَ أَهْلِ الْأَهْوَاءِ وَ الْبِدَعِ وَاجِبَةٌ عَلَى مَرِّ الْأَوْقَاتِ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ التَّوْبَةُ وَ الرُّجُوعُ إِلَى الْحَقِّ،اھ(3147/8)۔واللہ اعلم