میرے ابو سے میں اور میری بہن ہے اور انکے مرنے کے بعد میری ماں نے انکے بھائی سے نکاح کر لیا تھا ،وہ کوئی کام نہیں کرتے اور ان سے 3 اولاد ہے اور میری شادی ہو چکی ہے اور میں دوسرے ملک میں رہتا ہوں۔ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ ، میرے پاس اتنی آمدنی نہیں ہےکہ میں 2 گھر چلا سکو ں مجھے بتائے میرے اوپر کس کا حق زیادہ ہے۔؟
صورت مسئو لہ میں سائل کی والدہ کا نفقہ اصلا تو اس کے دوسرے شوہر کے ذمہ ہی لازم ہے لیکن اگر شوہر نفقہ برداشت نہ کرے تو سائل اپنی والدہ کے ساتھ مالی تعاون کر سکتا ہے جبکہ اس کے علاوہ سائل کے ذمے سوتیلے باپ اور بہن بھائیوں وغیرہ کسی کا نفقہ شرعاً ا لازم نہیں۔
وفي الدر المختار: ونفقةالغيرتجب على الغير بأسباب ثلاثة زوجية و قرابة و ملك.(ج: 3 ،ص: 572 )
وفى مجمع الانهر:(و) يجب (عليه) أي الموسر (نفقة كل ذي رحم محرم منه) وهو من لا يحل مناكحته على التأبيد..... فلا نفقة لذي رحم محرم مثل أولادهم(ج:1،ص:500)
وفى الفقه الاسلامى:الأفضل أن يخص بالصدقة الأقارب،...ولقوله صلى الله عليه وسلم لزينب امرأة عبد الله بن مسعود: «زوجك وولدك أحق من تصدقت عليهم»(ج:3،ص:2056)
وفى بدائع الصنائع:فسبب وجوبها هو الولادة؛ لأن به تثبت الجزئية والبعضية والإنفاق على المحتاج إحياء له ويجب على الإنسان إحياء كله وجزئه وإن شئت قلت: سبب نفقة الأقارب في الولادة وغيرها من الرحم المحرم هو القرابة المحرمة للقطع؛ لأنه إذا حرم قطعها يحرم كل سبب مفض إلى القطع(ج:4،ص:31)
وفى الهندية:تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية(ج:1،ص:544)