کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جو کہ رشتے ناتے توڑنے والا ہے اور وہ خود بھی اپنے الفاظ میں کہتا ہے کہ ہمارا تمہارا کوئی رشتہ ناتا نہیں ہے اور اپنے گھر آنے سے بھی منع کرتا ہے اور وہ آدمی ہمیشہ کسی نہ کسی کو تکلیف دینے کے در پے ہوتا ہے۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسے آدمی سے اگر رشتے ناتے ختم کردئیے جائیں تو کیا آدمی گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ کیونکہ حدیثِ مبارک میں آیا ہے کہ رشتے ناتے توڑنے والا انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا، نیز ایسے آدمی سے دنیاوی معاملات میں لین دین کرنا کیسا ہے؟
آپ حضرات دلائل کی روشنی میں واضح فرماکر مشکور فرمائیں۔ شکریہ
نوٹ: مذکور شخص نے اپنے چچا سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا ، لڑکی چونکہ اس کو پسند نہیں کرتی تھی اس لئے چچا نے منع کردیا اس کے بعد سے اس نے قطعِ تعلقی اختیار کی ہوئی ہے، جبکہ چچا قطعِ تعلقی پر رضا مند نہیں ہے تو کیا مذکور شخص کا طرزِ عمل شرعاً درست ہے؟ اور اس کے چچا بھی تنگ آکر اس سے قطع تعلق کرسکتا ہے یا نہیں؟ فقط
واضح ہو کہ رشتے بننا مقدر کی بات ہے اب اگر یہ لڑکا، لڑکی اور ان دونوں کے والدین کی رضا مندی سے ہوں تو اس طرح کے رشتے کامیاب اور دیرپا ہوتے ہیں زبردستی کے رشتوں میں عموماً خوشی اور بقاء نہیں ہوتی اس لئے شخصِ مذکور کا محض رشتہ کے انکار کی وجہ سے اپنے چچا وغیرہ سے قطع تعلقی اختیار کرنا شرعاً ناجائز ہے جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے اسے چاہئے کہ اپنی اس ناجائز حرکت پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ اپنے چچا وغیرہ سے معافی تلافی بھی کرے تاکہ مواخذۂ اُخروی سے بھی سبکدوشی ہوسکے۔
تاہم اگر شخصِ مذکور قطع تعلقی سے باز نہ آئے اور محض ضد کی بناء پر اس کے ساتھ صلح بھی ممکن نہ ہو یا صلح کرنے میں مزید تکلیف کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں اس کے چچا کو بھی چاہئے کہ اس کو اپنے حال پر رہنے دے اور حفاظت کی غرض سے اس سے کنارہ کشی اختیار کرے اور جب آمنا سامنا ہو تو اس کے ساتھ دعا سلام وغیرہ بھی کرے اور اس کے حق میں دعا بھی کرتا رہے۔
فی المشکوٰۃ: عن جبیر ابن مطعم قال قال رسول اﷲ ﷺ لا یدخل الجنۃ قاطع۔ متفق علیہ۔ (ص۴۱۹)-
وفی الدر: (وصلۃ الرحم واجبۃ ولو) کانت (بسلام تحیۃ وہدیۃ) ومعاونۃ ومجالسۃ ومکالمۃ(الی قولہ) لانہ من القطیعۃ فی الحدیث، ان اﷲ تعالٰی یصل من وصل رحمہ ویقطع من قطعہا۔ (ج۶، ص۴۱۱)-
وفی الشامیۃ: ثم اعلم انہ لیس المراد بصلۃ الرحم ان تصلہم اذا وصلوک لان ھٰذا مکافاۃ بل ان تصلہم وان قطعوک فقد روی البخاری لیس الواصل بالمکافی ولکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہٗ وصلہا۔ (ج۶، ص۴۱۱)-