السلام علیکم ! ہم چار بہن بھائی ہیں ، دو بھائی دو بہن , ہمارے والدین کا انتقال ہو چکا ہے ، ایک بھائی ایک بہن کی شادی ہو چکی ہے ، ایک بہن غیر شادی شدہ ہے ، میں گھر میں سب سے چھوٹا ہو ں، میرا ابھی ابھی نکاح ہوا ہے، 29 جنوری کو ، بات دراصل یہ ہے کہ میرا بڑا بھائی بھی غیر شادی شدہ بہن کو رکھنے کے لئے تیار نہیں ہے ، اور بیوی مجھ سے یہ ڈیمانڈ کر رہی ہے کہ میں آپ کی غیر شادی شدہ بہن کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، مہربانی فر مایئں مجھے کیا کر نا چاہیئے ؟
غیر شادی شدہ یا مطلقہ عورت اگر تنگ دست ہو، تو والدین کے بعد اس کے نان و نفقہ اور رہائش و غیرہ کی ذمہ داری شرعاً اس کے بھائیوں پر عائد ہوتی ہے ، اس لئے سائل اور اس کے بڑے بھائی کا محض اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر اپنی بہن کو ساتھ رکھنے سے انکار کرنا ، اور اس کے نان ونفقہ کی ذمہ داری میں کوتاہی کرنا شرعاً ناجائز اور موجبِ گناہ ہے اس لئے دونوں بھائیوں پر لازم ہے کہ اپنی بہن کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کی ادائیگی اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اس کی ادائیگی کی پوری کوشش کریں ، ورنہ بر وز قیامت اللہ کے سامنے جواب دہی مشکل ہوگی ، اور اگر اس سلسلہ میں سائل کی بیوی اور بھابھی کو اپنی نند سے کوئی پریشانی ہو تو اس کیلئے گھر میں مستقل کمرے کی اس طرح کوئی ترتیب بنائی جائے کہ اس کی وجہ سے گھریلو امور متاثر نہ ہوں۔
کما فی درالمختار : و نفقۃ الغیر تجب علی الغیر بأسباب ثلاثۃ ، زوجیۃ و قرابۃ و ملک ( باب النفقۃ ج: 3 ص 582 ط: سعید ) ۔
و فی ردالحتار : و بیان ذلک ان نقول لا یخلو اما ان یکون الموجود من قرابۃ الولاد شخصا واحدا أو أکثر و الأول ظاھر و ھو أنہ تجب النفقۃ علیہ عند استیفاء شروط الوجوب (باب النفقۃ ج 3 ص 622 ط: سعید )
و فی التاتارخانیہ : أن نفقۃ الغیر تجب علی الغیر بأسباب منھا الزوجیۃ و منھا النسب و منھا الملک (کتاب النفقات ج 4 ص 183 ط: ادارۃالقرآن العلوم الاسلامیہ) ۔
وفی الدرالمختار: و تجب أيضًا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغةً) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزًا) عن الكسب (بنحو زمانة) كعمى و عته و فلج، زاد في الملتقى و المختار: أو لايحسن الكسب لحرفة أو لكونه من ذوي البيوتات أو طالب علم (فقيرا) حال من المجموع بحيث تحل له الصدقة و لو له منزل و خادم على الصواب، بدائع۔(باب النفقۃ ج: 3 ص :627 ط: سعید )