اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ! ہم چھ بہنیں اور آٹھ بھاٸی ہیں۔والدین انتقال کر چکے ہیں۔چھ بہنوں میں سے تین شادی دہ ہیں اور تینوں بڑی بہنیں غیر شادی شدہ،عمر رسیدہ اور بیمار ہیں۔کوٸی بھاٸی انہیں ساتھ رکھنے اور انکی کفالت کیلیۓ تیار نہیں۔اور کہتے ہیں شریعت میں غیر شادی شدہ بہنوں کا بھاٸیوں پر کوٸی حق نہیں۔جو فراٸض ہوتے ہیں وہ صرف والدین کے ہوتے ہیں ہم صرف اپنے بیوی بچوں کے ذمہ دار ہیں۔مہربانی فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں اسکی مکلمل وضاحت فرما دیں۔ جزاك اللهُ
واضح ہو کہ والد کے انتقال کے بعد غیر شادی شدہ بہنوں میں سے جب کوئی بہن اس طرح تنگ دست ہو کہ اپنے خرچے کے لئے اس کے پاس کوئی بندوبست نہ ہو تو اس کا نفقہ و کفالت صاحب استطاعت بھائیوں پر لازم ہوتا ہے اور نفقہ نہ دینے کی صورت میں بھائی گناہ گار ہوں گے۔
لہذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کے والد کے انتقال کے بعد اس کی مذکور بہنوں کے مالی اخراجات ان کے ذاتی مال میں سے پورے کئے جائیں گے،لیکن اگر ان کے پاس ذاتی مال نہ ہو یا ناکافی ہو تو ان کے اخراجات بھائیوں کے ذمہ لازم ہوں گے،لہذا بھائیوں کا اس ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ بیوی اور نابالغ بچوں سمیت مذکور چار بہنوں کی کفالت وغیرہ بھی ان کے ذمہ لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌo(البقرة، الآیۃ: 215)
و فی سنن الترمذي ت بشار: عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان له ثلاث بنات أو ثلاث أخوات أو ابنتان أو أختان فأحسن صحبتهن واتقى الله فيهن فله الجنة. (3/ 384)
و فی سنن أبي داود: عن جبير بن نفير الحضرمي، أنه سمع أبا الدرداء، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ابغوني الضعفاء، فإنما ترزقون وتنصرون بضعفائكم»(3/ 32)
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي: فالأصل أن نفقة الإنسان في مال نفسه صغيرا كان أو كبيرا۔۔۔والنفقة لكل ذي رحم محرم إذا كان صغيرا فقيرا أو كانت امرأة بالغة فقيرة أو كان ذكرا بالغا فقيرا زمنا أو أعمى (2/ 292)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) (3/ 572)
و فی الفتاوى الهندية: لا يقضي بنفقة أحد من ذوي الأرحام إذا كان غنيا۔۔۔وتجب نفقة الإناث الكبار من ذوي الأرحام، وإن كن صحيحات البدن إذا كان بهن حاجة إلى النفقة كذا في الذخيرة (1/ 566)
و فی الدرالمختار مع الرد المحتار: (و) تجب أيضا (لكل ذي رحم محرم صغير أو أنثى) مطلقا (ولو) كانت الأنثى (بالغة) صحيحة (أو) كان الذكر (بالغا) لكن (عاجزا) عن الكسب (بنحو زمانة) كعمى وعته وفلج، زاد في الملتقى والمختار: أو لا يحسن الكسب لحرفة أو لكونه من ذوي البيوتات أو طالب علم (فقيرا) .... (بقدر الإرث) {وعلى الوارث مثل ذلك} [البقرة: 233] (و) لذا (يجبر عليه)...قوله )كعمى إلخ) أفاد أن المراد بالزمانة العاهة كما في القاموس. وفي الدر المنتقى أن الزمانة تكون في ستة: العمى وفقد اليدين أو الرجلين أو اليد والرجل من جانب والخرس والفلج...قوله وعته) بالتحريك: نقصان العقل...(قوله بقدر الإرث) أي تجب نفقة المحرم الفقير على من يرثونه إذا مات بقدر إرثهم منه.(3/627۔۔629)