کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں سعودی عرب میں تھا، اور میں ہر مہینے گھر کے لئے خرچہ بھیجتا تھا ،اور اس کے ساتھ میں بھائی کو الگ پیسے بھیجتا کہ وہ میرے لئے جمع کرے ،تو میرے واپسی کے بعد میں نے ان پیسوں سے اپنے لئے کاروبار شروع کیا ،تو کیا اس کاروبار میں میرے بہن بھائی شریک ہیں ؟ حالانکہ میں اپنے پیسوں پر سعودی گیا تھا نہ کہ وراثت میں کسی چیز کو بیچ کر ؟ براہِ کرم با حوالہ جواب دے کر مشکور فرمائیں۔
سائل نے اگر واقعۃً اپنی ذاتی رقم سے کاروبار شروع کیا تھا، اس میں سائل کے دیگر بہن بھائیوں کی طرف سے کوئی سرمایہ شامل نہیں تھا ،تو سائل کے اس انفرادی کاروبار میں شرعاً اس کے بہن بھائی شریک نہیں، اس لئے مذکور کاروبار میں ان کا اپنے حق کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
و في مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه". رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 165)-