السلام علیکم
آپ سے پوچھنا تھا کہ اگر شوہر کے اپنی بیوی کے ماں باپ سے تعلقات نہ ہوں، بات بند ہو اور شوہر بیوی کو حکم دے کہ میرے والدین کے ساتھ اچھی طرح رہو، ان کو تکلیف نہیں دو تو کیا اس کا حکم ماننا ہوگا ؟ بیوی کو ماں باپ دل سے اچھے نہیں لگتے،کیونکہ وہ ہر وقت یہ چاہتے ہیں کہ گھر ٹوٹ جائے تو ایسے حالات میں دل میں محبت لانا مشکل ہے تو کیا گناہ گار ہوگی؟
میاں بیوی دونوں پر لازم ہےکہ جیسے وہ اپنے والدین کی عزت و احترام اور ادب کرتے ہیں، اسی طرح اپنے سسرال ’’ ساس ، سسر‘‘ ، کا بھی خیال رکھیں ، ساس سسر کے ساتھ بد تمیزی سے پیش آنا ، ان کا ادب و احترام نہ کرنا، ان کی بات سنی ان سنی کر دینا، نہ صرف یہ کہ گناہ کی بات ہے، بلکہ بد تہذیبی ہے، جو اس ازدواجی تعلق کے برقرار رہنے میں بھی رکاوٹ اور حائل بن سکتی ہے، اس لئے فریقین میاں بیوی دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اپنے سسرال کا ادب و و احترام کریں، انہیں کسی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کریں، اور اگر کسی ایک کے والدین بلاوجہ شرعی اس ازدواجی تعلق کو ختم کرنے کے درپے ہوں تو ان کی اس بات کا ماننا لازم بھی نہیں، تاہم انہیں اعتماد میں لینے کی اشد ضرورت ہے، مگر اس اعتماد کی وجہ سے بیوی کیساتھ ظلم و زیادتی جائز نہیں ہو جاتی، اس سے بھی احتراز کی ضرورت ہے۔
ففى مشكاة المصابيح: وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الرحم معلقة بالعرش تقول: من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله ". متفق عليه اھ (3/ 1378)
وفيها ايضا : وعن ابن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس الواصل بالمكافىء ولكن الواصل الذي إذا قطعت رحمه وصلها» . رواه البخاري اھ (3/ 1378)
و في الدر المختار: (وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» و في الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر» اھ (6/ 411) واللہ اعلم بالصواب