بسم اللہ الرحمن الرحیم،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب! زید اپنے والدین کے گھر میں رہتا ہے۔ زید کی ایک مطلقہ بہن بھی ہے جو کہ طلاق کے بعد سے والدین کے گھر میں ہی رہتی ہے۔ بہن کے ۴ بچے ہیں، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ زید بھی شادی شدہ ہے اور اس کے ۳ بچے ہیں ، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔
والدین کے گھر میں ہر کسی کو الگ پورشن ملا ہوا ہے ۔ والدین کا کمرہ بھی نیچے والے حصہ میں ہے اور زید کا بھی پورشن نیچے اس حصہ سے الگ کر کے بنا ہوا ہے، جبکہ بہن کا پورشن اوپر والے حصہ میں ہے۔
بہن اور بہن کی بیٹیاں والدین کیلئے کھانا بناتی ہیں اور انہیں دوائی وغیرہ کے ساتھ پیش کرتی ہیں اور والدہ کو انسولین لگانا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
۱۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہن کی بیٹیاں جو کہ عاقل بالغ ہیں، وہ پینٹ شرٹ پہنتی ہیں، کئی دفعہ منع کرنے کے باوجود بھی باز نہیں آتیں اور کہتی ہیں کہ ہم تو ایسا لباس ہی پہنیں گی۔ زید نے ان پر سختی کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کو کہا کہ یا تو تم ایسا لباس پہنو گی یا پھر تم نیچے نہیں آؤ گی ۔ زید کی والدہ کا کہنا ہے کہ تمہاری بات درست ہے، لیکن تم ان کو نیچے آنے سے منع نہیں کر سکتے کہ وہ میری اور تمہارے والد کی خدمت کرتی ہیں۔
شریعت اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ
کیا زید اپنے والدین کے گھر میں بہن کی اولاد پر ایسا حکم صادر کر سکتا ہے اور پھر اس پر عمل کروانے کیلئے سختی کا طریقہ اختیار کر سکتا ہے؟
نیز یہ بھی بتا دیں کہ ایسے حالات میں زید کیلئے کیا حکم ہے کہ وہ کیا رویہ اختیار کرے؟
۲۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ زید نے اپنے بھانجے کے موبائل میں بہت فحش مواد دیکھا ۔۔۔ وہ دیکھنے کے بعد زید نے کہا کہ آئندہ سے یہ بھانجا زید کی والدہ یعنی اپنی نانی کے کمرے میں نہیں بیٹھے گا کہ اس کمرے میں زید کی بیٹی نے بھی آنا ہوتا ہے اور بھانجیوں بھتیجیوں نے بھی آنا ہوتا ہے۔
زید کی والدہ کا یہ کہنا ہے کہ یہ میرے سامنے رہے گا ،تاکہ میری نظروں میں رہے اور کوئی غلط کام نہ کرے۔
شریعت اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ
کیا زید والدین کے گھر میں ایسا حکم جاری کر سکتا ہے اور پھر اس پر عمل کروانے کیلئے سختی کا طریقہ اختیار کر سکتا ہے؟
نیز یہ بھی بتا دیں کہ ایسے حالات میں زید کیلئے کیا حکم ہے کہ وہ کیا رویہ اختیار کرے؟
۳۔ زید کی والدہ اور بہن دونوں حافظہ ، باپردہ اور نیک خواتین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم بچوں کو مستقل سمجھاتے رہتے ہیں ۔ جب تک وہ چھوٹے تھے ان کی پٹائی بھی کر دیتے تھے۔ لیکن اب ہم انہیں صرف سمجھا سکتے اور ان کی ہدایت کیلئے دعا کر سکتے ہیں۔
شریعت اسلامیہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ زید کی والدہ اور بہن کو ان حالات میں بچوں سے کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
صورت مسؤلہ میں زید کو چاہیے کہ وہ اپنی بھانجیوں کو حکمت اور نرمی کے ساتھ ساتر وحیادار لباس پہننے کی ترغیب دے اور بےپردگی پر مشتمل بےہودہ لباس پہننے سے باز رہنے کی تلقین کرے ،تاہم زید کا ان کے ساتھ سختی سے پیش آنا اور مار پیٹ کرنا شرعاً مناسب نہیں ،جس سے احتراز چاہیے ،جبکہ زید کے بھانجے کے موبائل میں اگر واقعی فحش مواد موجود ہو ،جس کی وجہ سے زید اس کی موجودگی میں اپنی بچیوں کو غیر محفوظ سمجھتا ہو، تو اس صورت میں اس کی والدہ وغیرہ سے بات کرکے اسے تنبیہ کی جاسکتی ہے ،اور اگر وہ اپنے اس عمل سے باز نہ آئے تو باہمی مشاورت سے بچیوں کی موجودگی میں نانی کے کمرے آنے پر پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے ۔
كما قال الله تعالى: ولَا تَكۡسِبُ كُلُّ نَفۡسٍ إِلَّا عَلَيۡهَاۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٞ وِزۡرَ أُخۡرَىٰۚ (الأنعام: 164)
وفي صحيح البخاري: أن عبد الله بن عمر يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (كلكم راع، وكلكم مسؤول عن رعيته، الإمام راع ومسؤول عن رعيته، والرجل راع في أهله وهو مسؤول عن رعيته، والمرأة راعية في بيت زوجها ومسؤولة عن رعيتها، والخادم راع في مال سيده ومسؤول عن رعيته). قال: وحسبت أن قد قال: (والرجل راع في مال أبيه ومسؤول عن رعيته، وكلكم راع ومسؤول عن رعيته). (باب الجمعة في القرى والمدن، الرقم: 853)
وفي سنن النسائي: قال أبو سعيد الخدري: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان،رقم الحدیث 5008۔)