میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اپنا گھر، جس کی قیمت اُس وقت تقریباً تیس لاکھ روپے تھی، اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا تھا۔ اُس وقت میری دو بہنیں رضامندی کے ساتھ دو، دو لاکھ روپے لینے پر تیار ہو گئی تھیں، اور میں بھی اس فیصلے پر راضی تھا، اب والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا اب مجھے بہنوں کو شرعی حصے کے مطابق دوبارہ کچھ دینا ضروری ہے، یا اُن کا اُس وقت راضی ہو جانا کافی ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کے والد نے اگر اپنی صھت والی زندگی میں مذکور مکان سائل کو ہبہ کر کے باقاعدہ مالکانہ حقوق و قبضہ کے ساتھ حوالہ نہ کیا ہو، بلکہ فقط زبانی کلامی بات ہوئی ہو اور مرحوم تا حیات اس مکان میں رہائش پذیر رہے ہوں، تو محض زبانی طور پر ہبہ دینے سے سائل اس مکان کے مالک نہیں بنے بلکہ یہ مکان بدستور سائل کے والد مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب اس کے انتقال کے بعد اس کی بیٹیوں سمیت تمام ورثاء میں اصول میراث کے مطابق تقسیم ہوگا، لہذا سائل کے والد مرحوم کی زبانی کلامی ہبہ کرنے اور بہنوں کا دو دو لاکھ پر آمادہ ہونے کی وجہ سے انہیں ان کے حصہ میراث سے محروم کرنا جائز نہیں، بلکہ اس مکان سمیت مکمل ترکہ تمام ورثاء کے درمیان اصول میراث کے مطابق تقسیم کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها الخ۔ (ج:5، ص:690، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت و لو كانت فی مرض الموت للاجنبی کما سبق فى كتاب الوقف کذا فی الهامش (قوله بالقبض الکامل) و كل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية الخ (كتاب الهبة، ج: 5 ، ص: 690 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
و فی الھندیۃ: لا يثبت الملك للموهوب له الا بالقبض هو المختار، هكذا فی الفصول العمادية الخ (کتاب الھبۃ ، ج: 4 ، ص: 378 ، ط: ماجدیۃ)۔