طلاق

دوران عدت شوہر کے انتقال سے کونسی عدت لازم ہوگی؟

فتوی نمبر :
87613
| تاریخ :
2025-10-11
معاملات / احکام طلاق / طلاق

دوران عدت شوہر کے انتقال سے کونسی عدت لازم ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کو شوہر نے 3 طلاق دیئے، اس سے اگلے دن شوہر نے خود کو مار دیا، تو اب عدت کون سی شمار ہوگی، عدت طلاق یا وفات ؟ اور میں اگر اس بچی کو ڈیپریشن سے بچنے کے لئے یا وہاں اس کے اکیلے پن کی وجہ سے بچی کو اپنے ساتھ لے آتا ہوں تو شریعت کا اس حوالے سے کیا حکم ہے؟ براہِ مہربانی مکمل تفصیل بتا دیں۔ جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیٹی کو اگر شوہر نے اس طور پر تین طلاقیں دی ہوں کہ وہ مرحوم شوہر کی وارث نہ بن رہی ہو، یعنی اسے حالتِ صحت میں شوہر نے طلاق دی ہو، تو اس صورت میں اس پر عدتِ وفات لازم نہ ہوگی، بلکہ عدتِ طلاق گزار نا لازم ہوگا، البتہ اگر وہ وارث بن رہی ہو، یعنی اسے مرض الوفات میں طلاق دی گئی ہو، تو اس صورت میں راجح قول کے مطابق اس پر عدتِ طلاق اور عدتِ وفات میں سے جو عدت طویل ہو ،وہ عدت گزارنا لازم ہوگی۔
جبکہ معتدہ پر عدت اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں ہی گزارنا لازم ہے، کسی شدید عذر کے بغیر اس گھر سے باہر نکلنا یا رہائش تبدیل کرنا جائز نہیں ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مرحوم شوہر کے گھر میں رہ کر عدت مکمل کرنے میں کوئی شرعی عذر نہ ہو یعنی کسی قسم کے جان ،مال یا عزت وآبرو کا خطرہ نہ ہو تو ایسی صورت میں گھر میں رہ کر عدت مکمل کرنا لازم ہے،اس لئے اس کو اپنے گھر لانے کے بجائے اگر کوئی جہاندیدہ خاتون اس کے ساتھ رہ کر اس کی تنہائی کو دور کر سکتی ہو تو اس کو ہمراہ رکھا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتح القدیر : (وإذا ورثت المطلقة في المرض فعدتها أبعد الأجلين) وھذا عند ابی حنیفہ ومحمد وقال ابو یوسف ثلاث حیض ومعناہ اذا کان الطلاق بائنا او ثلاثا اما اذا کان رجعیا فعلیھا عدۃ الوفاۃ بالاجماع لابی یوسف ان النکاح قد انقطع قبل الموت بالطلاق ولزمتہا ثلاث حیض وانما تجب عدۃ الوفاۃ اذا زال النکاح فی الوفاۃ الا انه بقی فی حق الارث لا فی حق تغیر العدۃ بخلاف الرجعی لان النکاح باق من کل وجہ ولھما انه لما بقی فی حق الارث یجعل باقیا فی حق العدۃ احتیاطا فیجمع بینھما الخ (باب العدۃ ، ج: 4 ، ص: 142 ، ط: رشیدیہ)۔
وفیه ایضاً : (قوله: وإذا ورثت المطلقة في المرض) يتعلق بالمطلقة أي ورثت التي طلقت في المرض بأن طلقها بغير رضاها بحيث صار فارًّا ومات وهي في العدة (فعدتها أبعد الأجلين) أي الأبعد من اربعة أشهر وعشر وثلاث حيض، فلو تربصت حتى مضت ثلاث حيض ولم تستكمل أربعة أشهر وعشرًا لم تنقض عدتها حتى تستكملها، وإن مضت أربعة أشهر وعشر ولم تمض لها ثلاث حيض بأن امتد طهرها لم تنقض عدتها حتى تمضي وإن مكثت سنين ما لم تدخل سن الإياس؛ فتعتد بالأشهر، إذا عرفت هذا فمن فسّر أبعد الأجلين بأنها تعتد بأربعة أشهر وعشر فيها ثلاث حيض مقصر إذ لايصدق إلا إذا كانت الأربعة أشهر وعشر أبعد من الثلاث حيض، وحقيقة الحال أنه لا بد من أن تتربص آخر الأجلين، وهذا الحكم ثابت في صور إحداها هذه، والثانية إذا قال لزوجته أو زوجاته: إحداكن طالق بائن، ومات قبل البيان فعلى كل واحدة الإعتداد بأبعد الأجلين، ولو بين في إحداهما كان ابتداء العدة من وقت البيان، والثالثة أم الولد إذا مات زوجها وسيدها ولم يدر أيهما مات أولا وعلم أن بينهما شهرين وخمسة أيام فصاعدًا، وسنفصلها إن شاء الله تعالى، ثم المراد بذلك الطلاق البائن واحدة أو ثلاثًا أما إذا طلقها رجعيًا فعدتها عدة الوفاة سواء طلقها في مرضه أو في صحته ودخلت في عدة الطلاق، ثم مات الزوج فإنها تنتقل عدتها إلى عدة الوفاة وترث بخلاف ما إذا طلقها بائنًا في صحته، ثم مات لاتنتقل ولاترث بالإتفاق ( قوله لابي يوسف ان النكاح قد انقطع قبل الموت بالبائن ولزمها ثلاث حيض حكما له وانما تلزم عدة الوفاة اذا انقطع بالموت وليس فليس و انما بقي في حق الارث) لاجماع الصحابة رد القصده السي عليه وهذا لا يستلزم الحكم ببقائه في حق العدة فلا تتغير به العدة بخلاف الرجعي لان النكاح قائم من كل وجه وانما انقطع بالموت فتجب عدة الوفاة فيه ( قوله فيجمع بينهما) أي بين عدة الطلاق والوفاة وذلك لانه انقطع بالوفاة حقيقة وبالموت حكما أما الأول فيفرض المسئلة انه أبانها قبل الموت و باعتباره يجب عدة الطلاق وأما الثاني فباعتبار قيام النكاح عند الموت فان نوريثھا يستلزم ذلك ولازمه لزوم عدة الوفاة ولازم اللازم لازم فيلزم توريثها الاعتداد بعدة الوفاة فتحب عدة الوفاة لكن بقى قول أبي يوسف ان اعتباره قائم لرد قصده عدم توريثھا عليه لا يستلزم أن يبقى في حق العدة وجوابه ان الارث لا يثبت بالشك والعدة تثبت به فاذا بقي النكاح شرعاً في حق الارث فلان يبقى في حق العدة أولى مع ان الاصل ان الشي انما يثبت بلازمه وهذا هو معنى قول المصنف احتياطا الخ (باب العدۃ ، ج: 4 ، ص: 142 ، ط: رشیدیہ(۔
وفی الدر المختار : (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه" اھ (كتاب الطلاق، باب العدۃ ، فصل فی الحداد ، ج: 3 ، ص: 536 ، ط:سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموتذ يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة لما تلوناه من الآية اھ (فصل فی الاحداد ، ج: 4 ، ص: 154 ، ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87613کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات