السلام علیکم ،ہم بہن ،بھائیوں نےاپنی اور دوسروں کی زرعی زمین میں کھیتی باڑی کرکے تقریباً 40۔ 45 لاکھ کی ملکیت بنائی۔ اب میرے 3 بھائی والد صاحب کو اپنے ساتھ ملاکر دوسرے بہن بھائیوں کو ملکیت میں حصہ نہیں دیتے، جب کہ میں گھریلو اخراجات میں الگ ہوں تو میں خود 13000 تنخواہ پر خانگی اسکول میں پڑھاتا ہوں،جس سے گھریلو اخراجات مشکل سے بھی پورے نہیں ہوتے،اس حالت میں شریعت کیا کہتی ہے کہ میں والد کے جیتے جی اس ملکیت میں دعوی کرسکتا ہوں یا نہیں؟ اور یہ ساری ملکیت ہم نے مل کر بنائی تھی جب اکھٹے تھے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل اور اس کے بھائی والد کے ساتھ اکٹھے رہتے ہوں اوراپنی ساری کمائی والد کے حوالے کرتےہوں تو وہ تمام کمائی والدکی ملکیت قرار پائے گی۔لہذا والد کی زندگی میں اس مال یا جائیداد میں سائل سمیت دیگر ورثاء کا حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، البتہ اگر والد خود اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں تو ان کے لیے جائز ہے کہ اپنی جائیداد اپنی مرضی سے تمام اولاد کے درمیان تقسیم کر دیں، تاہم انصاف و عدل کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ اس جائیداد کو بنانے میں بیٹوں نے ان کی اعانت کی ہے، لہذا وہ اولاد کی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی میں ہی یہ ان کےدرمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کر دیں تو یہ زیادہ مناسب ہے۔
کما فی الشامیۃ: لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب الخ(کتاب الشركة،فصل في الشركة الفاسدة،ج:4،ص:325،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» الخ(مطلب مھم فی قول الواقف،ج:4،ص:444،ط:سعید)۔