میرا نام والدین نے سبحان اللہ رکھا میں اپنا نام تبدیل کر کے عبدالسبحان رکھنا چاہتا ہوں ، میرے پاس قانونی اعتبار سے جزوی نام تبدیلی کی گنجائش ہے ، اسلامی اور شرعی راہ نمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ !
صورتِ مسئولہ میں سائل اپنا نام تبدیل کر کے " عبد السبحان " رکھنا چاہے تو یہ نام رکھ سکتا ہے،لیکن لفظ سبحان کو مصدری معنی میں لینے کی صورت میں اس کا معنی بنتا ہے" پاکی بیان کرنے کی بندہ " اور بعض علماء نے اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے کی ممانعت بھی بیان کی ہے، اس لئے سائل اپنا نام تبدیل کرنا چاہتا ہے، تو پھر عبد السبحان کے بجائے بہتر ہے کہ انبیاء کرام ، صحابہ عظام کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کیا جائے یا کوئی دوسرا اچھے معنی والا نام رکھیں۔
کما فی مرقاة المفاتيح : "وعن أبي الدرداء - رضي الله عنه - قال: «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم» " رواه أحمد، وأبو داود." (کتاب الاداب باب الاسامی ج: 8، ص: 526، ط: حقانیۃ)۔
و فی کتاب النوازل: " سبحان" علم للتسبیح و لذلک منع صرفہ للعلمیۃ و زیادۃ الألف و النون فالسبوح و القدوس فعول من التسبیح الخ(کتاب الحظر و الاباحۃ، ج: 15، ص: 228، ط: دار الاشاعت)۔
و فیہ ایضاً: قلت: و من ھھنا وضع ذلک أن تسمیۃ العوام أطفالھم بعبد السبحان مما لا معنی لھا، و یجب نھیھم عنہ؛ فإن العبودیۃ لا تضاف إلا إلی أسماء اللہ تعالی، و السبحان لیس علماً لہ و لا وصفاً لہ؛ بل ھو مصدر فأحفظ، فإنہ من الفوائد النفیسۃ الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ، ج: 15، ص: 228، ط: دار الاشاعت)۔
و فی الھندیۃ: و فی الفتاوی التسمیۃ باسم لم یذکرہ اللہ تعالی فی عبادہ و لا ذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و لا استعملہ المسلمون تکلموا فیہ و الاولی ان لا یفعل کذا فی المحیط الخ (کتاب الکراھیۃ، ج: 5، ص: 362، ط: ماجدیۃ)۔