السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! محترم مفتی صاحب! ہمارے محلہ کی ایک مسجد کے متعلق کچھ اشکالات ہیں، براہِ کرم قرآن و حدیث ، فقہ حنفیہ کی روشنی میں وضاحت فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ واقعہ یوں ہے کہ تقریباً اٹھائیس سال قبل محمد ابراہیم صاحب نے 12 مرلہ زمین مسجد کےلئے وقف کی تھی۔ یہ پلاٹ اس نے اپنا ذاتی مکان بنانے کےلئے خریدا تھا، جس سے خریدا تھا، اس کا نام ماسٹر محمد بلال صاحب ہے۔ یہ پلاٹ واقف نے پرچی پر لیا تھا ( ہمارے شہر خانقاہ شریف میں ایک طویل عرصہ اس علاقہ کے وڈیرے اپنی زمین لوگوں کو پرچی پر دیتے رہے ہیں )۔ واقف نے پلاٹ وقف کرتے وقت وہ پرچی متولی کو نہیں دی تھی، صرف اسٹام پر سائن کرکے دیا تھا۔ واقف نے اس مسجد کےلئے جو متولی مقرر کیا ، اس متولی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے بھتیجے کو متولی مقرر کردیا، لیکن اہلِ محلہ کے بعض لوگ اس پر ناراض ہیں اور شرعی وجوہات کی بنیاد پر اس کی امامت قبول نہیں کرتے۔ اس مسجد میں ایک خطیب و نائب امام تقریباً اٹھائیس سال سے خدمتِ دین، خطابت اور درسِ قرآن و حدیث کی خدمات انجام دے رہے تھے، ان کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے۔ موجودہ وقت میں اصل واقف محمد ابراہیم صاحب جو کہ ابھی حیات ہیں ، انہوں نے عدالت میں اسٹام پر تحریری لکھ دیا ہے کہ مجھے متولی کے بھتیجے پر اعتماد نہیں ہے کچھ شرعی وجوہات کی بناپر تو اب میں اس جگہ کا متولی خطیب صاحب کے بیٹے کو بناتا ہوں اور ان کو اہل سمجھتا ہوں۔
ہمارے سوالات یہ ہیں۔
1۔ شرعاً وقف کے بعد واقف کو کیا اختیارات باقی رہتے ہیں؟
2۔ کیا وہ اپنی مرضی سے متولی تبدیل کرسکتا ہے؟
3۔ اگر اصل واقف نے عدالت میں واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص اس کا اہل ہے تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟
4۔ متولی کی تقرری کا اصل حق کس کو ہے؟
5۔اگر متولی کے پیچھے محلہ کے نمازی اس کی غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے نماز نہ پڑھتے ہوں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
6۔ فقہ حنفی کی روشنی میں متولی کی تقرری کے اصول و ضوابط تفصیل سے ارشاد فرمائیں۔
محترم! ہم سب اہلِ محلہ شرعی حل چاہتے ہیں، تاکہ کسی قسم کا جھگڑا یا انتشار پیدا نہ ہو۔ براہِ کرم قرآن، حدیث، فقہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
اگر وقف کرنے والا اپنی زمین مسجد کےلئے وقف کردے توایک دفعہ اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے سے شرعاً وقف لازم ہوجاتا ہے، اور وقف شدہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، اس کے بعد واقف کو رجوع کا حق باقی نہیں رہتا۔ البتہ واقف کو وقف شدہ زمین میں حفاظتِ وقف کی خاطر اس میں جائز شرائط لگانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح اہلیت کی موجودگی میں بانی وقف کواز خودمتولی وقف بننے کا بھی حق ہوتا ہے، تاہم اگر وہ اپنی مرضی و خوشی سے کسی اور اہل شخص کو متولی بنانا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے جبکہ کسی اورشخص کو متولی مقرر کرنے کے باوجود واقف کو تا حیات یہ اختیار رہتا ہےکہ وہ عدمِ اطمینان یا نا اہلی سامنے آنے پر موجودہ متولی کو معزول کرکے اس کی جگہ دوسرا متولی مقرر کردے۔لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں بانی وقف مسمیٰ محمد ابراہیم چونکہ بحمد اللہ بقیدِ حیات ہے، اس لئے وہ مرحوم متولی کے مقرر کردہ موجودہ متولی کو عدمِ اطمینان کے باعث منصبِ تولیت سے معزول کرنے اور اس کی جگہ اپنی مرضی و منشأ سے اس منصب کے اہل کسی فرد کو متولی بنانے کا حق رکھتا ہے۔ چنانچہ جب اہلِ محلہ و مقتدیانِ مسجد مرحوم متولی کے مقرر کردہ شخص کی امامت و اقتداءمیں نماز پڑھنے پر آمادہ نہ ہوں اور واقف بھی اسے باقاعدہ قانونی طور پر اس منصب سے نا اہل ہونے کے سبب معزول کرکے اس کی جگہ باقاعدہ اہل شخص مقرر کرچکا ہو تو اب اس منصب سے برخاست کئے شخص کو بلا وجہ انتشار کا باعث بننے کی بجائے خود کو اس منصب سے علیحدہ کرلینا چاہیئے ، تاکہ اہلِ علاقہ و مقتدیوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا برقرار رہےاور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے سے بچا جاسکے، کیونکہ یہ کوئی دنیاوی عہدہ و منصب نہیں ہےجس سے دنیاوی اغراض و مقاصد کے حصول کی خاطر خود کو زبر دستی منسلک رکھا جائے بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس کی جوابدہی دنیا و آخرت دونوں جہاں میں کرنی پڑے گی۔ لہٰذا اس ذمہ داری کو خود سے طلب کرنا یا اس کی خواہش رکھنا اور اس کے حصول کےلئے لڑائی جھگڑا اور نزاع پیدا کرنا دین و ایمان کےلئے نقصان دہ اور خطرہ کی علامت ہے، جس سے بہر صورت بچنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: و شرعا (حبس العین علی) حکم (ملک الواقف و التصدق بالمنفعۃ) و لو فی الجملۃ (إلی قولہ) (و عندھما ھو حبسھا علی) حکم (ملک اللہ تعالی و صرف منفعتھا علی من أحب) و لو غنیا فیلزم، فلا یجوز لہ إبطالہ و لا یورث عنہ، و علیہ الفتوی ابن کمال و ابن شحنۃ (إلی قولہ) (و الملک یزول) عن الموقوف بأربعۃ بإفراز مسجد (إلی قولہ) (جعل) الواقف (الولایۃ لنفسہ جاز) بالإجماع و کذا لو لم یشترط لأحد فالولایۃ لہ عند الثانی، و ھو ظاھر المذھب نھر، خلافا لما نقلہ المصنف، ثم لوصیہ إن کان و إلا فللحاکم (إلی قولہ) (و ینزع) وجوبا بزازیۃ (لو) الواقف درر فغیرہ بالأولی (غیر مأمون) أو عاجزا أو ظھر بہ فسق کشرب خمر و نحوہ فتح، أو کان یصرف مالہ فی الکیمیاء نھر بحثا (إلی قولہ) (ولایۃ نصب القیم إلی الواقف ثم لوصیہ) لقیامہ مقامہ (إلی قولہ)(أراد المتولی إقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ) و صحتہ (إن کان التفویض لہ) بالشرط (عاما) صح و لا یملک عزلہ إلا إذا کان الواقف جعل لہ التفویض و العزل (و إلا) و إن فوض فی صحتہ (لا) یصح و إن فی مرض موتہ صح و ینبغی أن یکون لہ العزل و التفویض إلی غیرہ (إلی قولہ) و فيھا للواقف عزل الناظر مطلقا، به يفتى(إلی قولہ) (البانی) للمسجد أولی من القوم (بنصب الإمام و المؤذن فی المختار إلا إذا عین القوم أصلح ممن عینہ) البانی إلخ۔
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ علی حکم ملک اللہ تعالی) قدر لفظ حکم لیفید أن المراد أنہ لم یبق علی ملک الواقف و لا انتقل إلی ملک غیرہ، بل صار علی حکم ملک اللہ تعالی الذی لا ملک فیہ لأحد سواہ (إلی قولہ) و ینعزل المتولی من قبل الواقف بموت الواقف علی قول أبی یوسف المفتی بہ لأنہ وکیل عنہ إلا إذا جعلہ قیما فی حیاتہ و بعد موتہ (إلی قولہ) (قولہ غیر مأمون إلخ) قال فی الإسعاف: و لا یولی إلا أمین قادر بنفسہ أو بنائبہ (إلی قولہ) من طلب التولیۃ علی الوقف لا یعطی لہ إلخ۔
و فیھا أیضا: تحت (قولہ ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر:قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته و إن لم يشترطھا وأن له عزل المتولي، و أن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف ثم ذكر عن التتارخانية ما حاصله أن أهل المسجد لو اتفقوا على نصب رجل متوليا لمصالح المسجد فعند المتقدمين يصح و لكن الأفضل كونه بإذن القاضي(إلی قولہ) ثم لا يخفى أن تقديم من ذكر مشروط بقيام الأهلية فيه حتى لو كان خائنا يولى أجنبي حيث لم يوجد فيھم أهل لأنه إذا كان الواقف نفسه يعزل بالخيانة فغيره بالأولى (إلی قولہ) (قوله: للواقف عزل الناظر مطلقا) أي سواء كان بجنحة أو لا و سواء كان شرط له العزل أو لا و هذا عند أبي يوسف لأنه وكيل عنه و خالفه محمد كما في البحر: أي لأنه وكيل الفقراء عنده، و أما عزل القاضي للناظر فقدمنا الكلام عليه عند قوله و ينزع لو غير مأمون إلخ (قوله: به يفتى) و الذي في التجنيس و الفتوى على قول محمد أي بعدم العزل عند عدم الشرط و جزم به في تصحيح القدوري العلامة قاسم و كذلك المؤلف أي ابن نجيم في رسائله و هو من باب الاختلاف في الاختيار إلخ۔ (کتاب الوقف، ج 4، ص 337۔430، ط: سعید)۔