بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ:
“آئی برو (ابرو) کی مائیکرو بلیڈنگ اور مائیکرو شیڈنگ کروانا شریعت کی رو سے جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ عمل کروایا جائے تو کیا اس کے بعد غسل اور وضو صحیح ہو جاتا ہے یا اس میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے؟”
مہربانی فرما کر شرعی راہنمائی عطا فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
مائيكرو بليڈنگ اور مائیکروشیڈنگ گودنے کی جدید شکل ہے جو ازروئے شرع ناجائز اور حرام ہے اور احادیث طیبہ میں ایسا کرنے یا کروانے والے پر لعنت کی وعید وارد ہوئی ہے ،البتہ چونکہ یہ گدوانے کا عمل جلد کی اندرونی تہہ میں ہوتا ہےاور اوپر پانی کے بہنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی لہذا وضو اور غسل اس کے ساتھ شرعا درست ہوں گے ۔
كما جاء فى الحديث: عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: (لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، والواشمة والمستوشمة)(ج:٢،ص٨٧٦)
وفى الدر المختار:وَفِي اخْتِيَارٍ وَوَصْلُ الشَّعْرِ بِشَعْرِ الْآدَمِيِّ حَرَامٌ سَوَاءٌ كَانَ شَعْرَهَا أَوْ شَعْرَ غَيْرِهَا لِقَوْلِهِ صلى الله عليه وسلم «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْوَاشِرَةَ وَالْمُسْتَوْشِرَةَ وَالنَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ» النَّامِصَةُ الَّتِي تَنْتِفُ الشَّعْرَ مِنْ الْوَجْهِ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الَّتِي يُفْعَلُ بِهَا ذالك.(ج:٦،ص:٣٧٢)
وفى الشامية: يُسْتَفَادُ مِمَّا مَرَّ حُكْمُ الْوَشْمِ فِي نَحْوِ الْيَدِ، وَهُوَ أَنَّهُ كَالِاخْتِضَابِ أَوْ الصَّبْغِ بِالْمُتَنَجِّسِ؛ لِأَنَّهُ إذَا غُرِزَتْ الْيَدُ أَوْ الشَّفَةُ مَثَلًا بِإِبْرَةٍ ثُمَّ حُشِيَ مَحَلُّهَا بِكُحْلٍ أَوْ نِيلَةٍ لِيَخْضَرَّ تَنَجَّسَ الْكُحْلُ بِالدَّمِ، فَإِذَا جَمَدَ الدَّمُ وَالْتَأَمَ الْجُرْحُ بَقِيَ مَحَلُّهُ أَخْضَرَ، فَإِذَا غُسِلَ طَهُرَ؛ لِأَنَّهُ أَثَرٌ يَشُقُّ زَوَالُهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَزُولُ إلَّا بِسَلْخِ الْجِلْدِ أَوْ جَرْحِهِ، فَإِذَا كَانَ لَا يُكَلَّفُ بِإِزَالَةِ الْأَثَرِ الَّذِي يَزُولُ بِمَاءٍ حَارٍّ أَوْ صَابُونٍ فَعَدَمُ التَّكْلِيفِ هُنَا أَوْلَى، وَقَدْ صَرَّحَ بِهِ فِي الْقُنْيَةِ فَقَالَ: وَلَوْ اتَّخَذَ فِي يَدِهِ وَشْمًا لَا يَلْزَمُهُ السَّلْخُ اهـ(ج؛١،ص٣٣٠