اسلام علیکم
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس حوالے سے کہ ایک شخص جوکہ بیرونِ ملک میں کام کرتا ہے اور جس کمپنی میں کام کرتا ہے اس کمپنی سے ایک سیلری اگریمینٹ ہوتا ہے کہ ماہانہ ٹیکس کی مد میں سلیری کا ۴۵ فیصد حصہ کٹے گا اور باقی ۵۵ فیصد سیلری اس شخص کو دی جائے گی۔ اور وہ شخص اسی گمان میں رہتا ہے کہ اس کا کیونکہ ٹیکس کٹ رہا ہے تو وہاں کی حکومت اس شخص کو تمام سہولت فراہم کرے گی مگر اس شخص کو کوئی سہولت نہیں ملتی تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ چار سالوں سے زائد عرصے سے اس سے ناجائز طور پر ٹیکس لیا جارہا تھا بلکہ جو فیصد ٹیکس کی مد میں کاٹا جارہا تھا وہ بھی کہیں زیادہ کاٹا گیا۔ اب اس شخص کا سوال یہ ہے کہ کیا وہ کیسی طرح وہ سیلری جو اس کی تھی وہ واپس لے سکتا ہے یا وہ اتنا ہی لون لے کر واپس اپنے ملک آجائے۔ کیا اس طرح سے لی گئی رقم اس کی جائز ہوگی گویا کہ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ بھی نہیں ہے رقوم واپس لینے کا۔
رہنمائی فرمائیں
شکریہ
صورت مسئولہ میں ٹیکس کٹوتی کے عوض حکومت کی طرف سے مخصوص سہولیات کا ملنا اگر معاہدہ کا حصہ نہ ہو، جیساکہ عام طور پریہی ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے کٹوتی کے بقدر رقم کسی بھی ناجائز طریقے سے وصول کرنا شرعاً درست نہ ہوگا، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی احکام القران للجصاص :قَوْله تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ روى عن ابن عباس ومجاهد ومطرف وَالرَّبِيعِ وَالضَّحَّاكِ وَالسُّدِّيِّ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَالثَّوْرِيِّ قَالُوا الْعُقُودُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ أَرَادَ بِهَا الْعُهُودَ(ج:3،ص : 283 ، ط: دار احیاء التراث العربی)
و فی شرح المجلۃ : المعروف عرفا کالمشروط شرطا ای المعروف المعتاد بین الناس ،و ان لم یذکر صریحا فھو بمنزلۃ الصریح (المادۃ :43 ،ج: 1، ص :96، ط: دار الکتب العلمیۃ )