میں اپنے گھر کی پاکیزگی اور اسلامی اصولوں کے مطابق اپنے پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کے ایک معاملے پر آپ کی قابل قدر رہنمائی حاصل کرنے کے لیے لکھ رہی ہوں، میری ایک بلی ہے، جس نے حال ہی میں پانچ بلیوں کو جنم دیا ہے، جن میں سے چار بلے اور ایک بلی ہے، میں ان سب سے بہت پیار کرتی ہوں، اور انہیں ایک اچھی زندگی دینا چاہتی ہوں، تا ہم مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ: جب بلے بلوغت تک پہنچیں گے تو وہ اپنے علاقے کو نشان زد کرنے کے لیے پیشاب چھڑکنے کا رویہ اپنائیں گے ،یہ رویہ دو بڑی وجوہات کی بنا پر ایک سنگین مسئلہ پیش کرتا ہے۔
1: پاکیزگی (طہارت) کا برقرار رہنا، ہمارا گھر چھوٹا ہے، اور ان کا پیشاب چھڑکنا فرش، دیواروں اور ہمارے سامان کو ناپاک (نجس) بنا دے گا، ہماری نمازوں اور روزمرہ کی زندگی کے لیے ایک صاف اور پاک گھر برقرار رکھنا ہمارے لیے بہت اہم ہے۔
2: نقصان سے بچاؤ ایک چھوٹی سی جگہ پر چار غیر مختنہ (غیر neutered ) بلوں کا ہونا جانوروں کے لیے لڑائی، تناؤ اور ہمارے خاندان کے لیے ایک ناقابل برداشت رہنے کی صورت حال پیدا کرے گا۔
مجھے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ: اس چھڑکاؤ کو روکنے کا سب سے موثر طریقہ بلوں کا neuter (یعنی اسپے/ خصی) کروانا ہے، تا ہم میں دو باتوں کو لے کر بہت پریشان ہوں ، میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ناپسندیدہ ہے، مجھے ڈر ہے کہ: یہ عمل ان کی فطری خوشی اور جوش کو ختم کر دے گا، میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ: بعض علماء نے ضرورت کے اصول کے تحت زیادہ بڑے نقصان کو روکنے کے لیے جیسے کہ: گھر میں مسلسل ناپاکی (نجاست) اور لڑائی تناؤ سے بلیوں کی صحت کے خطرات، اس عمل کی اجازت دیتے ہیں، اس لیے میں آپ سے درج ذیل سوالوں پر رہنمائی کی درخواست کرتی ہوں۔ میرے مخصوص حالات میں چھوٹے گھر میں چار نر بلیوں کے مسلسل ناپاکی (نجاست) کو روکنے اور گھریلو ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت ایک ایسی ضرورت ہے جو neutering کو جائز (حلال) بنا دے گی؟ کیا کوئی متبادل اسلامی حل ہیں جن پر میں غور کروں؟ میں اپنے خاندان کے دین اور ان بلیوں کے بہبود کے لیے بہترین کام کرنا چاہتی ہوں۔ جن کی ذمہ داری اللہ نے مجھے سونپی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور مقصد کے لیے اگرچہ نر بلے کو خصی کرنے کی شرعا گنجائش ہے، تا ہم بلیوں کی پرورش اور ان کی دیکھ بھال اتنا بھی اہم کام اور فریضہ نہیں کہ: ایک مسلمان بندہ اس کے لیے اتنا فکرمند ہو چہ جائیکہ اس کے علاوہ پاکی ناپاکی کے مسائل بھی بنتے ہوں، جبکہ بلیوں سمیت بے شمار مخلوقات ہیں کہ: انسانوں کی پرورش کے بغیر اللہ تعالی کی ذمہ داری پر اللہ ہی کے سدھائے ہوئے طریقوں پر پل بڑھ رہے ہیں، اس لیے سائلہ کو چاہیئے کہ اپنی صلاحیتوں اور مالی فوائد سے انسانیت کی خدمت کرے۔
کما فی الدر المختار: (و) جاز (خصاء البھائم) حتی الھرۃ، وأما خصاء الآدمی فحرام قیل والفرس وقیدوہ بالمنفعة وإلا فحرام الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله قیدوہ) أی جواز خصاء البھائم بالمنفعة وھو ارادۃ سمنھا أو منعھا من العض الخ(کتاب الحظر والاباحة، ج6، ص388، ط: سعید)۔
وفی الھندیة: خصاء السنور إذا کان فیه نفع أو دفع ضرر لا بأس به کذا فی الکبری الخ(الباب التاسع عشر فی الختان والخصاء ، ج5، ص357، ط: ماجدیة)۔
وفی التاتارخانیة: فی خصاء السنور أنه لا بأس به إذا کان منفعة أو دفع ضرر، وفی الواقعات: لا بأس بخصاء البھائم الخ(الباب العشرون فی الختان والخضاب ، ج18، ص207، ط: رشیدیة)۔