نام رکھنے کا حکم

بچی کے لیے "کسوہ" نام تجویز کرنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
85925
| تاریخ :
2025-09-07
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچی کے لیے "کسوہ" نام تجویز کرنا کیسا ہے؟

میں اپنی بچی کا نام” کسوہ “رکھنا چاہ رہا ہوں، اس کی پیدائش جمعرات کے دن ہوئی ہے، یہ نام رکھنا کیسا ہے؟ یا اگر آپ کوئی اور نام تجویز کرنا چاہیں ، تو راہ نمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیرا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسوہ کا معنی ہے لباس یاستر چھپانے والا ، اس معنی کے اعتبار سے بچی کا نام کسوہ رکھنا درست اور شرعاً یہ نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،لہذا سائل اپنی بچی کا نام ”کسوہ “رکھ سکتاہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن أبی داؤد: عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء أباءکم فأحسنوا أسماءکم (باب فی تغییر الأسماء ج: 2، ص: 329، ط: امدایہ)۔
وفی لسان العرب: کسا: الكسوة والكسوة: اللباس، واحدة الكسا؛ قال الليث: ولها معان مختلفة. يقال: كسوت فلانا أكسوه كسوة إذا ألبسته ثوبا أو ثيابا فاكتسى. واكتسى فلان إذا لبس الكسوة ”الكسوة“؛ قال رؤبة يصف الثور والكلاب: قد كسا فيهن صبغا مردعا يعني كساهن دما طريا؛ وقال يصف العير وأتنه:يكسوه رهباها إذا ترهبا،على اضطرام اللوح، بولا زغربايكسوه رهباها أي يبلن عليه. ويقال: اكتست الأرض بالنبات إذا تغطت به. والكسا: جمع الكسوة الخ ( فصل الكاف، ج: 15، ص: 223، ط: دار صادر۔ بیروت)۔
وفی المعجم الوسیط: (الكسوة) الثوب يستتر به ويتحلى (ج) كسا الخ (باب الکاف، ج 2، ص788، ط: دار الدعوہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85925کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات