مکروہات

گھر کے نیچے قبریں اور اوپر مسجد و مدرسہ بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
85913
| تاریخ :
2025-09-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مکروہات

گھر کے نیچے قبریں اور اوپر مسجد و مدرسہ بنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام بیچ اس مسئلہ کے
کہ
کسی کی ذاتی( ملکیتی) زمین ہو جس میں اپنے گھرانے کے افراد کی ایک دو نئی قبریں بھی ہوں اور مزید قبروں کی گنجائش بھی ہو ،
کیا مالکان اپنی اس قبروں والی زمین پر صدقہ جاریہ کی خاطر چھت ڈال کر اوپر
مسجد ومدرسہ بنا سکتے ہیں ؟
شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور قبریں اگر زمین کی کسی ایک جانب ہو ں تو اس حصہ کو چھوڑ کر بقیہ حصہ پر تعمیر کرلی جائے، تاکہ بے ادبی کا شائبہ با قی نہ رہے، تاہم مذکور قبروں کے اوپر بھی چھت ڈالنی پڑجائے تو بوقت مجبوری اس کی بھی گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الصحيح للبخاري: عن أنس قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة فنزل أعلى المدينة في حي يقال لهم بنو عمرو بن عوف الی قولہ فقال يا بني النجار ثامنوني بحائطكم هذا قالوا لا والله لا نطلب ثمنه إلا إلى الله فقال أنس فكان فيه ما أقول لكم قبور المشركين وفيه خرب وفيه نخل فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنبشت(ھل ینبش قبور
مشرکی الجاھلیۃویتخذھا مساجد، رقم الحدیث:428)
وفی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:قال ابن القاسم :لو ان مقبرۃ من مقابر المسلمین عفت فبنی قوم فیھا مسجدا لم ار بذلک باسا لأن المقابر وقف من اوقاف المسلمین لدفن موتاھم لایجوز لاحد ان یملکھا فاذا درست واستغنی عن الدفن فیھا جاز صرفھا الی المسجد لان المسجد ایضا وقف من اوقاف المسلمین لا یجوز تملیکہ لاحد فمعناھما واحد (باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ ویتخذ مکانھا مسجدا ،ج:4،ص: 265،ناشر: دار کتب العلمیۃ بیروت)
وفي رد المحتار وإن بقي من عظامهم شيء تنبش وترفع الآثار وتتخذ مسجدا لما روي أن مسجد النبي كان قبل مقبرة للمشركين فنبشت كذا في الواقعات اه(مطلب فی دفن المیت،ج:2،ص:234،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی الھندیۃ: وإن بقيت آثارهم بأن بقي من عظامهم شيء ينبش ويقبر ثم يجعل مقبرة للمسلمين لأن موضع مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مقبرة للمشركين فنبشت واتخذها مسجدا كذا في المضمرات (کتاب الوقف،الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر، ج:2،ص:469،ناشر:ماجدیۃ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85913کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا رات کو ںاخن کاٹے جاسکتے ہیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کھڑے ہوکر وضو اور پیشاب کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • مرد کے لئے اپنے سینے کے بال کاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • اجرت پرھوم ورک اوراسائنمنٹ تیارکرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 2
  • سینے سے بال صاف کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • کیا ذی الحجہ کے دس دنوں میں بال اور ناخن کاٹنا حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • مرد کا بھنویں اکھاڑنے اور اس پر پکا کلر کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 0
  • کم عمربچوں سے اشعارپڑھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • آن لائن فوڈ ایپ کے واؤچر کا غلط استعمال

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   مکروہات 0
  • غیر مسلم ملک میں مستقل رہائش اختیار کرنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   مکروہات 1
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ دیکھنا-زیر ناف بال کاٹنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • کافر کا جوٹھا استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • بینک ملازم کے لڑکے کو بیٹی کا رشتہ دینا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مونچھ مونڈھنا-زیرِ ناف صفائی کے لۓ کریم - پاؤڈر کا استعمال

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • چیس گیم کھیلنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پیچ شدہ موبائل خریدنے اور خود موبائل پیچ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میاں بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاء مخصوصہ کو چومنے اورچاٹنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • ملک کے موجودہ حالات کی وجہ سے ہجرت کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • پینے کیلئے رکھے ہوئے پانی سے ہاتھ دھونا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مشغلہ اور کھیل کے طور پر شکار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • میت کے گھر میں تین دن تک کھانا کھانا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • عورت کا باپردہ ہو کر اپنی آواز میں, یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیو اپلوڈ کرنا

    یونیکوڈ   مکروہات 1
  • لوگوں کے سامنے اپنی بزرگی بیان کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • مرحوم والد صاحب کی تصویریں شیئر کرتے رہنا

    یونیکوڈ   مکروہات 0
  • پب جی گیم کھیلنے کاحکم

    یونیکوڈ   مکروہات 0
Related Topics متعلقه موضوعات