بخدمت: دارالافتاء / مفتی صاحب دامت برکاتہم
سوال:
میری عمر ۴۷ برس ہے۔ بحمد اللہ حافظِ قرآن ہوں، پانچ وقت کی نماز کا پابند ہوں، رمضان کے روزے رکھتا ہوں اور تراویح بھی پڑھتا ہوں۔ میرا بڑا بیٹا بھی حافظِ قرآن ہے، الحمدللہ۔
میرا عقیدہ ہے کہ صحت و مرض اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور بندہ کو جو تقدیر لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہے گی۔ ہمارے خاندان میں دل کی بیماری عام ہے۔ میرے والد کا انتقال دل کے دورہ سے ہوا، میرے تایا، چچا اور کئی قریبی عزیزوں کی اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی ہے۔
اہلِ خانہ کے اصرار پر میں نے چند میڈیکل ٹیسٹ کروائے۔ ان میں دل کے عارضے کی نشاندہی ہوئی اور ڈاکٹروں نے مزید تشخیص کے لیے اینجیوگرافی تجویز کی۔ مگر اپنی اللہ پر توکل کی وجہ سے اور ملازمت کے دباؤ کے باعث میں مزید ٹیسٹ یا علاج نہیں کروانا چاہتا۔ اہلِ خانہ بار بار علاج کے لیے اصرار کر رہے ہیں
میری کفالت میں والدہ، اہلیہ اور چار بچے ہیں، جن میں سب سے چھوٹا صرف چار ماہ کا ہے۔ علاج پر خرچ برداشت کرنے کی گنجائش ہے، لیکن میرا رجحان علاج نہ کروانے کا ہے۔
اب شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ:
کیا میرا علاج نہ کروانے کا فیصلہ درست ہے یا اہلِ خانہ کا اصرار بجا ہے؟
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ میں علاج کروانا ناصرف جائز بلکہ اکثر صورتوں میں مستحب ہے۔
نبی کریم ﷺ نے علاج کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا:
"تَدَاوَوْا عِبَادَ اللّٰه فَإِنَّ اللّٰه لَمْ یَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَه دَوَاءً" (مسند احمد) یعنی علاج کرو، کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کا علاج بھی پیدا فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علاج کرنا سنتِ نبوی اور مشروع عمل ہے۔شریعت نے جان کی حفاظت کو مقاصدِ خمسہ میں شامل کیا ہے، لہٰذا ایسی بیماری جس میں علاج نہ کروانے سے جان کو یا اہل و عیال کی کفالت کو خطرہ لاحق ہو، اس کے علاج کو چھوڑ دینا درست نہیں ۔جبکہ توکل کا معنی اسباب کو ترک کر دینا نہیں، بلکہ اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص علاج کا انکار محض اس وجہ سے کرے کہ "اللہ پر توکل ہے"، تو یہ ناقص توکل ہوگا ۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ مرض کی ابتدائی نشاندہی ہوچکی ہے اور ڈاکٹروں نے مزید ٹیسٹ اور علاج تجویز کیا ہے، اور علاج پر خرچ برداشت کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے، اس لیے محض اپنی طبعی خواہش یا ناقص توکل کی بنیاد پر علاج چھوڑ دینا شرعاً صحیح نہیں،اس متعلق سائل کے اہلِ خانہ کا اصرار بجا ہے۔لہٰذا سائل کوچاہیے کہ معالجین کی ہدایت کے مطابق تشخیص اور علاج کروائے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور دعا و اذکار کا اہتمام بھی کرے۔ اس طرح اسباب بھی اختیار ہوں گے اور توکل بھی کامل رہے گا۔
کما في سنن أبي داود : عن أبي كبشة الأنماري -قال كثير: إنه حدثه-: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يحتجم على هامته وبين كتفيه، وهو يقول: "من أهراق من هذه الدماء، فلا يضره أن لا يتداوى بشيء لشيء".(6/ 10 ت الأرنؤوط)
وفيه أيضا : عن مولاه عبيد الله بن علي بن أبي رافع ، عن جدته سلمى خادم رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت: «ما كان أحد يشتكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا في رأسه إلا قال: احتجم ولا وجعا في رجليه إلا قال: اخضبهما.(4/ 2 ط مع عون المعبود)
وفيه أيضا : عن أسامة بن شريك، قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه كأنما على رؤوسهم الطير، فسلمت ثم قعدت، فجاء الأعراب من هاهنا وهاهنا، فقالوا: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، أنتداوى؟ فقال: "تداووا، فإن الله عز وجل لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء واحد الهرم»(6/ 5 ت الأرنؤوط)
وفي بذل المجهود في حل سنن أبي داود» : (قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، وأصحابه) الواو للحال، أي: والحال أن أصحابه (كأنما على رؤوسهم الطير) كناية عن السكون والوقار، أي: صامتون متأدبون (فسلمت ثم قعدت) أي: في الجماعة (فجاء الأعراب من ههنا وههنا فقالوا: يا رسول الله! أنتداوى؟ ) إذا مرضنا (فقال: ) أي: رسول الله صلى الله عليه وسلم (تداووا).(11/ 583)
الظاهر أن الأمر للإباحة والرخصة، وهو الذي يقتضيه المقام، فإن السؤال كان عن الإباحة قطعا، فالمتبادر في جوابه أنه بيان للإباحة، ويفهم من كلام بعضهم أن الأمر للندب وهو بعيد، نعم، قد تداوى رسول الله صلى الله عليه وسلم بيانا للجواز، فمن نوى موافقته صلى الله عليه وسلم يؤجر على ذلك، كذا في "فتح الودود".»