میں اپنے بیٹے کو ایک مکان ہبہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میری بیوی اپنی زندگی کے دوران اس مکان کا کرایہ حاصل کرتی رہے۔ شریعت کے مطابق یہ معاملہ میں کس طرح انجام دے سکتا ہوں؟ یعنی ایک طرح سے "آگے کی ہبہ "۔
واضح ہوکہ ہبہ کے درست اور مکمل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ موہوب لہ ( جس کو ہبہ کیا جارہا ہے ) کو شیء موہوب پر موقع پر ہی مکمل باقاعدہ مالکانہ قبضہ دیدیا جائے ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر اپنے بیٹے کو مذکور مکان باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدےتو شرعاً یہ ہبہ درست ہوجائےگا اور مذکور مکان سائل کے بیٹے کی ملکیت میں منتقل ہوجائے گی ، جبکہ سائل کا مکان ہبہ کرتے وقت اس کے منافع بیوی کو دینے کی شرط لگانا شرعاً معتبر نہیں اور مذکور شرط کی وجہ سے بیٹے پر اس کے منافع سائل کی بیوی کو دینا لازم نہ ہوگا، کیونکہ ملکیت کسی کو دیکر اس کے منافع دوسرے کے لیے مشروط کرنے کی شرعاً کوئی گنجائش نہیں ، اس لیے کہ ملکیت سے مقصود ہی منافع کا حصول ہوتاہے، لہذا سائل کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ مذکور مکان بیٹے کو ہبہ کرنے کے بجائے اپنی ملکیت میں برقرار رکھے اور زندگی میں اس کا کرایہ و منافع اپنی بیوی کو دیتا رہے، اور اگر سائل کے انتقال کے وقت اس کی بیوی بقید حیات ہوئی تو وہ اپنے حصۂ شرعی کے مطابق اس مکان کی مالک بن کر اس سے منتفع ہوتی رہے گی ۔
کما فی الدر المختار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلاً لملک الواھب لا مشغولاً بہ ) و الأصل أن الموھوب إن مشغولاً بملک الواھب منع تماماً إلخ
و فی رد المحتار تحت ( قولہ بالقبض ) فیشترط القبض قبل الموت و لو کانت فی مرض الموت للأجنبی کما سبق فی کتاب الوقف کذا فی الھامش ( قولہ بالقبض الکامل ) و کل الموھوب لہ رجلین بقبض الدار فقبضاھا جاز خانیۃ إلخ ( کتاب الھبۃ، ج 5، ص 690، ط سعید )-
و فی مجمع الأنھر: لا تجوز الھبۃ إلا مقبوضۃ اھ ( کتاب الھبۃ، ج: 3، ص: 491، ناشر: مکتبۃ غفاریۃ )-
و فی شرح المجلۃ : المادۃ : 837 – ( تنعقد الھبۃ بالایجاب و القبول و تتم بالقبض) صریح ھذہ المادۃ أن القبول رکن أیضاً کالإیجاب ، و ھو المذکور فی الھدایۃ و الغرر و الملتقی و التنویر و غیرھا ( إلی قولہ ) و اعلم أن المراد بالقبض الذی تتم بہ الھبۃ ھو القبض الکامل و ھو فی المنقول ما یناسبہ و فی العقار ما یناسبہ ، فقبض مفتاح الدار قبض لھا إلخ ( الفصل الأول فی بیان مسائل المتعلقۃ برکن الھبۃ و قبضھا ، ج 3 ، ص 344 ، ط مکتبۃ اسلامیۃ )-
و فی شرح المجلۃ أیضاً : تنعقد الھبۃ بالأیجاب والقبول ، و تتم بالقبض الکامل لأنھا من التبرعات والتبرع لا تتم إلا بالقبض اھ ( رقم المادۃ: ج: 1، ص: 462، ناشر: حنفیۃ )-
و فی الھندیۃ: وأنها لا تبطل بالشروط الفاسدة حتى لو وهب الرجل عبده على أن يعتقه صحت الهبة وبطل الشرط، كذا في البحر الرائق. اھ ( کتاب الھبۃ، ج:4، ص: 274، ناشر: المطبعۃ الأنصاریۃ )-