السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد کا کاروبار ہے، جو میرا بھائی ان کے ساتھ مل کر چلاتا ہے، والد کے کاروبار سے جو بھی کچھ حاصل ہوتا ہے وہ سب میرے بھائی کے پاس جاتا ہے، وہ والد کے ساتھ انہی کے گھر میں رہتا ہے اور جو بھی مراعات اور سہولیات اس کاروبار سے ملتی ہیں، ان سب کا فائدہ صرف میرے بھائی کو ہو رہا ہے،ہم دو بہنیں ہیں اور ہمیں اس کاروبار میں سے کچھ بھی نہیں ملتا، یہ کاروبار دراصل ہمارے دادا کا تھا، جو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے قائم کیا تھا، اور اب وہ ہمارے والد کے پاس ہے، ان کے چھ بھائی اور بھی ہیں، لیکن سب کے الگ الگ کاروبار ہیں، یہی حال ہماری پھوپھیوں کے ساتھ بھی ہوا کہ انہیں بھی کاروبار میں سے کچھ نہیں ملا، بس دادا نے انہیں 25،25 لاکھ روپے دے دیے، جبکہ بیٹوں کو فیکٹریاں، گھر اور گاڑیاں ملیں، اور یہ سب اسی کاروبار سے بنا جو ہمارے دادا نے شروع کیا اور بنیاد رکھی،اب والد نے بھی سب کچھ صرف اپنے بیٹے کو دے دیا ہے اور کچھ حصہ تو ابھی سے ہی اس کے نام بھی کر دیا ہے، ہم نے تو حدیث شریف میں سنا ہے کہ والد اگر اپنی زندگی میں ایک اولاد کو کچھ دے تو باقی سب اولاد کو بھی دینا لازم ہے، لہٰذا میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کاروبار میں ہم بہنوں کا بھی کوئی حق ہے؟ اور اگر والد اپنی زندگی ہی میں سب کچھ بھائی کو دے دیں تو ہم کیا کریں؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل ، اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کر سکتا ہے اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں، اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو تقسیم پر مجبور کرے، البتہ اگر کوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلا جبر و اکراہ محض اپنی مرضی و خوشی سے اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے، تو اسے اس کا اختیار ہے، اور یہ تقسیم ترکہ نہیں بلکہ ہبہ (گفٹ )کہلائیگا ،جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کے لیے جو کچھ رکھنا چاہے وہ رکھ کر بقیہ مال و جائیداد تمام اولاد (بیٹوں بیٹیوں) کے درمیان برابر تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کے حصے پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنا دے تاکہ یہ ہبہ (گفٹ) شرعا بھی درست اور تام ہو سکے ،محض کاغذات میں نام کر دینا کافی نہیں، تا ہم اگر وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو اس کی خدمت گزاری محتاجگی یا دینداری وغیرہ کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کا بھی اسے اختیار ہے، مگر بلاوجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم کرنا گناہ کی بات ہے، لیکن اس کے باوجود اگر سائلہ کے والد نے اپنی جو جائیداد اپنے بیٹے کے نام کر کے اس کا قبضہ بھی اس کو دے دیا ہے، تو شرعا یہ ہبہ (گفٹ) مکمل ہو گیا ہے،اور بیٹا اس جائیداد وغیرہ کا مالک بن گیا ہے، تاہم سائلہ کے والد کا اپنی تمام جائیداد صرف بیٹے کو دینا اور بیٹیوں کو محروم رکھنا شرعی اعتبار سے غیر منصفانہ فعل ہے، جس پر احادیث طیبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار ناپسندیدگی منقول ہے، ایک روایت میں حضرت نعمان ابن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ ایک دن ان کے والد حضرت بشیر رضی اللہ تعالی عنہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر نعمان سے بھی اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، لہذا سائلہ کے والد کو چاہیے کہ وہ اولاد کے درمیان انصاف کے تقاضے کے مطابق بیٹیوں کو بھی اپنے مال و جائیداد میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دے کر راضی کرے، تاکہ مواخذۂ اخروی سے بعافیت سبکدوشی ممکن ہو سکے ۔
کما فی صحيح البخاري: ومحمد بن النعمان بن بشير , أنهما حدثاه عن النعمان بن بشير ، أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إني نحلت ابني هذا غلاما ، فقال : أكل ولدك نحلت مثله ، قال: لا، قال : فارجعه (كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، ج:3، ص:206، ط الشعب)-
و فی الشامیۃ: و في الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، و إن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوی اھ(كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط: سعید)-
و فی البحر الرائق: يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين اھ (کتاب الھبۃ، ج:7، ص: 288، ط: رشیدیہ)-