سلام مسنون
کیا فرماتے ہیں علماء دین شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص نے مدرسہ قائم کرنے کے لیے ایک زمین اور کچھ عمارتیں وقف کیں اور اسے کچھ عرصے کے لیے اپنے مالی وسائل سے چلایا۔ بعد ازاں، اس نے وقف کو چلانے کے لیے دوسروں سے بھی نقد اور دیگر قسم کی مدد لی۔ کیا مدرسہ میں تعاون و مدد کرنے والے لوگ بھی واقف کے حکم میں ہو جاتے ہیں اور اس کی طرح وقف کو کنٹرول کرنے کے برابر حقوق حاصل کرتے ہیں.
کیا تعاون دینے والے واقف کے برابر ہو سکتے ہیں ؟ رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں
والسلام
صورتِ مسئولہ میں جس شخص نے اپنی زمین یا عمارت مدرسہ کے لیے وقف کردی، شرعاً وہی “واقف” شمار ہوگا، اور وقف سے متعلق اصل اختیارات اسی کی مقرر کردہ شرائط اور نظم کے مطابق ہوں گے۔
چنانچہ بعد میں مدرسہ کے اخراجات یا انتظام میں مالی تعاون کرنے والے حضرات اگرچہ بڑے اجر و ثواب کے مستحق ہیں، لیکن محض تعاون یا چندہ دینے سے وہ واقف کے حکم میں نہیں ہوجاتے، اورنہ ہی انہیں از خود وقف پر مساوی کنٹرول یا واقف جیسے مستقل حقوق حاصل ہوتے ہیں۔
البتہ اگر واقف نے ابتداءً یا بعد میں باقاعدہ طور پر کسی کمیٹی، مجلسِ انتظامیہ یا مخصوص افراد کو انتظامی اختیارات دے دیے ہوں، تو پھر وہ اختیارات اسی حد تک معتبر ہوں گے جس حد تک واقف نے تفویض کیے ہوں۔
لہٰذا تعاون کرنے والے حضرات کا احترام اور مشورہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن شرعاً وہ محض تعاون کی وجہ سے واقف کے برابر قرار نہیں پائیں گے۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : (جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالاجماع، وكذا لو لم يشترط لاحد فالولاية له عند الثاني، وهو ظاهر المذهب.
نهر.خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان، وإلا فللحاكم.فتاوى ابن نجيم وقارئ الهداية وسيجئ (وينزع) وجوبا. بزازية(لو) الواقف.درر.فغيره بالاولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه.فتح أو كان يصرف ماله في الكيمياء.نهر بحثا (وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي، فلو مأمونا لم تصح تولية غيره، أشباه»(ص373)
وفی حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي»: مطلب في عزل الناظر (قوله: فلو مأمونا تصح تولية غيره) قال في شرح الملتقى إلى الأشباه لا يجوز للقاضي عزل الناظر المشروط له النظر بلا خيانة، ولو عزله لا يصير الثاني متوليا ويصح عزل الناظر بلا خيانة لو منصوب القاضي أي لا الواقف وليس للقاضي الثاني أن يعيده وإن عزله الأول بلا سبب لحمل أمره على السداد إلا أن تثبت أهليته اهـ وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي» (4/ 382)