کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ ’’۔۔۔۔۔ سکنہ : مکان نمبر ۔۔۔۔ کراچی ایڈ منسٹریشن سوسائٹی کا رہائشی ہوں، میں نے اپنی زوجہ مسماۃ ۔۔۔ کو ۲۶ نومبر ۲۰۱۹ میں ان الفاظ کے ساتھ ’’کہ اپنی زوجہ مسمیٰ کو ایک طلاق بائن دیتا ہوں‘‘ طلاق دی ہے، کیا اس سے ہمارے درمیان علیحدگی واقع ہوئی ہے؟ یا مجھے تین طلاق کا اسٹامپ پیپر بنانا ہوگا؟ کیونکہ نادرا وغیرہ میں وہ طلاق کے لیے تین طلاقوں کا پیپر طلب کرتے ہیں اور اسی کو وہ طلاق سمجھتے ہیں، راہ نمائی فرمائیں؟ فقط ۔
سائل نے جب بیوی کو مذکورہ الفاظ ’’میں اپنی زوجہ مسماۃ ۔۔۔۔۔‘‘ کو ایک طلاق بائن دیتا ہوں‘‘ کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، طلاق واقع ہونے کے لیے اسٹامپ پیپر بنانا شرعا کوئی ضروری نہیں، جبکہ سائل کی بیوی عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
في الدر المختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) اھ (3/ 226)۔
وفى الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)
مطلب الصريح نوعان رجعي وبائن ففي البدائع أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن. فالأول أن يكون بحروف الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة (إلی قوله) وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة بحروف الطلاق، (إلی قوله) ووقوع البائن في أنت طالق بائن اھ (3/ 250) والله اعلم بالصواب.