کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اور بیوی کی آپس میں بحث وتکرار چل رہا تھا کہ اچانک غصہ میں آکر میرے منہ سے طلاق کے الفاظ نکل گئے، مختلف اندازسے دسیوں بار بولا، اس کا نام لیا بھی کہ ’’میں اسماء کو طلاق دیتا ہوں‘‘ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ و غیرہ الفاظ سے میں نے تین سے زائد بار بولا ہے، حضرت میں بھی اور بیوی بھی پریشان ہیں، میرا قطعا یہ ارادہ نہیں تھا کہ میں اس کو چھوڑ دوں، اور نہ کبھی زندگی میں اس طرح سوچا اور بیوی کو بھی یقین ہے کہ میرا خاوند مجھے بھی نہیں چھوڑ سکتا، آپ حضرات سے گزارش ہے کہ ہمارا مسئلہ حل فرما دیں، آپ حضرات کی مہربانی ہو گی ۔
سائل کے بیان کے مطابق جب اس نے سوال میں درج الفاظ طلاق تین سے زائد مرتبہ بول دیئے ہیں ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، جبکہ تین سے زائد الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں ، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دو بارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما قال الله قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة: 230]۔
و في صحيح مسلم: عن عروة، عن عائشة، قالت: جاءت امرأة رفاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: كنت عند رفاعة، فطلقني، فبت طلاقي، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، وإن ما معه مثل هدبة الثوب، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك» اھ (2/ 1055)۔
و في الدر المختار : (والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، وعند عدمه الوقوع بالصيغة. (3/ 287)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله والطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متى قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه لو قال لغير المدخول بها أنت طالق ثلاثا طلقت ثلاثا اھ (3/ 287)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت قوله ثلاثة متفرقة وكذا بكلمة واحدة بالأولى، (إلی قوله) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. (3/ 233)۔
و في الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية (1/ 473) واللہ اعلم بالصواب