السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم مفتی صاحب!
امید ہے آپ بخیر ہوں گے۔ ایک اہم شرعی مسئلے پر آپ کی قیمتی رہنمائی درکار ہے۔
میری طرف سے ایک “حلال برو کٹ” (Halal Brow Kit) لانچ کرنے کا ارادہ ہے، اور اس سے پہلے میں شرعی رہنمائی لینا چاہتی ہوں تاکہ اس پروڈکٹ میں کوئی ایسا عنصر شامل نہ ہو جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو۔
جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں، حدیث شریف میں آیا ہے:
لَعَنَ اللَّهُ النَّامِصَةَ وَالْمُتَنَمِّصَةَ
(اللہ تعالیٰ نے اس عورت پر لعنت فرمائی جو ابرو بناتی ہے اور جس کے لیے بنائی جاتی ہے)
[صحیح بخاری و مسلم]
اس حدیث کی روشنی میں ابرو کے بال نوچنا، یا باریک کرنا حرام ہے، اور اس عمل کو انجام دینے والی اور کروانے والی دونوں پر لعنت فرمائی گئی ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
اگر ابرو کے بال نوچے بغیر، صرف بلیچ (Bleach) کے ذریعے ان کا رنگ ہلکا کر دیا جائے تاکہ وہ نمایاں نہ ہوں، تو کیا یہ شریعت کے مطابق جائز ہے؟
وضاحت کے لیے عرض ہے کہ:
بلیچ ایک قسم کی کریم ہوتی ہے جو چہرے یا جسم کے بالوں پر لگائی جاتی ہے، جس سے بال اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، مگر ان کا رنگ ہلکا ہو جاتا ہے (مثلاً سنہری یا سفید)، جس کی وجہ سے وہ بظاہر واضح طور پر نظر نہیں آتے۔ اس میں بالوں کو نکالا نہیں جاتا، صرف ان کی ظاہری رنگت تبدیل ہوتی ہے۔
اس حلال برو کٹ کو لانچ کرنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ خواتین کو حرام طریقوں سے بچایا جائے۔ چونکہ آج کل بہت سی بہنیں آئی برو کو نوچتی ہیں اور یہ عمل صریح حرام ہے، اس لیے ہم نے یہ متبادل راستہ تلاش کیا ہے تاکہ خواتین نوچنے کے بجائے بلیچ کے ذریعے ابرو کو صاف ستھرا کر سکیں اور یوں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ظاہری صفائی کا اہتمام کر سکیں۔
لہٰذا گزارش ہے کہ رہنمائی فرمائیں:
• کیا بلیچ کے ذریعے آئی برو کے بالوں کا رنگ ہلکا کر کے ان کو ظاہری طور پر صاف کرنا جائز ہے؟
آپ کی شرعی رائے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہوگی تاکہ ہم اپنی پروڈکٹ مکمل طور پر حلال اصولوں کے مطابق تیار کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام
واضح ہوکہ حدودشریعت میں رہتے ہوئے جسمانی زیبائش یا صفائی کا ایسا طریقہ کاراختیارکرناجو حرام اموراورکفار یا فُساق وفجارکے ساتھ مشابہت پرمشتمل نہ ہوں بلاشبہہ جائزاوردرست ہے۔
لہذا، سائلہ کا" آئی ـــبرو "کے بالوں کی رنگت کو ہلکا کرنےوالی ایسی بلیچ کریم متعارف کروانا جس کے اجزائے ترکیبی میں حرام اورناپاک اجزاء کی امیزش نہ ہو شرعاًجائزہے ،اورخواتین کا اپنی زیبائش اورخوبصورتی میں اضافہ کرنے کے لیے اس کااستعمال بھی درست ہے ۔
نيز خواتین کے لیے اس بات کا لحاظ بھی ضروری ہے کہ شوہر کی خاطر زینت ہو، غیر محارم نہ دیکھیں اور بطورِ فیشن اور ریا ونمود نہ کیا جائے۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی التنزیل:﴿أَوَمَن يُنَشَّؤُاْ فِي ٱلۡحِلۡيَةِ وَهُوَ فِي ٱلۡخِصَامِ غَيۡرُ مُبِينٖ﴾ [الزخرف: 18]
و فی مسند أبي داود الطيالسي :عن أبي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خير النساء التي إذا نظرت إليها سرتك، وإذا أمرتها أطاعتك، وإذا غبت عنها حفظتك في نفسها ومالها قال: وتلا هذه الآية: {الرجال قوامون على النساء} إلى آخر الآية».(4/ 86)
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية : «الاختضاب بالورس والزعفران يشارك الاختضاب بالحناء والكتم في أصل الاستحباب. وقد اختضب بهما جماعة من الصحابة. روى أبو مالك الأشجعي، عن أبيه، قال: كان خضابنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الورس والزعفران،وقال الحكم بن عمرو الغفاري: دخلت أنا وأخي رافع على أمير المؤمنين عمر، وأنا مخضوب بالحناء، وأخي مخضوب بالصفرة، فقال عمر: هذا خضاب الإسلام. وقال لأخي رافع: هذا خضاب الإيمان » (2/ 280)