کیا فرماتے ہیں علماء دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا نام۔۔۔۔۔ ہے، میرے شوہر کا نام ۔۔۔۔ ہے ، ہم دونوں کو خانگی مسئلہ در پیش ہے، اس لئے ہم دونوں حاضر ہیں۔
بات یہ ہے کہ ایک رات میرے اور شوہر کے درمیان بات چیت چل رہی تھی، میں نے باتوں باتوں میں کہا کہ آپ مجھے پسند نہیں، میرے بھائیوں نے شادی کرادی ہے، اس وجہ سے تیرے پاس آئی ہوں، لہذا آپ مجھے طلاق دیدیں، اس پر خاوند نے کہا کہ " انیلہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، انیلہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، انیلہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اس کی بعد وہ کہنے لگا کہ میرا دل سے طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، میں تو مذاق کر رہا تھا، اور طلاق تو ایسے نہیں ہوتی، اس کے لئے گواہ ضروری ہوتے ہیں، آپ حضرات سے گزارش ہے کہ میں بھی دل سے نہیں چاہتی کہ میری طلاق ہو جائے ، اس لئے براہ مہربانی یہ بتائیں کہ کیا مجھے طلاقیں ہوئیں یا نہیں؟ اگر ہوئیں ہیں تو براہ کرم کوئی حل بتا دیں ،تا کہ دوبارہ میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکیں۔
واضح ہو کہ شرعاً طلاق واقع ہونے کے لیے گواہوں کا موجود ہونا کوئی ضروری نہیں ، اور نہ ہی صریح طلاق کے لیے نیت ضروری ہوتی ہے، بلکہ اس کے بغیر بھی طلاق کے صریح الفاظ کہہ دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ مسماۃ " انیلہ" کے شوہر مسمیٰ ۔۔کا اپنی بیوی کو سوال میں مذکور الفاظ ’’انیلہ میں آپ کو طلاق دیتا ہوں “ تین بار کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلفہ ثابت ہو چکی ہے، اب دوبارہ رجوع نہیں ہو سکتا، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عدت کے بعد سائلہ مسماۃ " انیلہ “ اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
ففي سنن أبي داؤد لأبي داؤد سليمان بن الأشعث الأزدي السجستاني (المتوفى: ۲۷۵): حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز يعني ابن محمد، عن عبد الرحمن بن حبيب، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن ماهك، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة " (۲/۲۵۹ باب في الطلاق على الهزل) -
و في المبسوط لمحمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى: ۴۸۳هـ) : قال: فإن تزوج بها الثاني على قصد أن يحللها للزوج الأول من غير أن يشترط ذلك في العقد صح النكاح ويثبت الحل للأول إذا دخل بها الثاني وفارقها اھ (6/ 16)
في النتف في الفتاوى لأبي الحسن علي بن الحسين بن محمد السعدي، الحنفي (المتوفى: ۴۶۱هـ): وأما اللفظ المقرون بالتكرار فهو على أربعة أوجه أحدهما أن يقول أنت طالق طالق طالق والثاني ان يقول انت طالق وطالق وطالق والثالث ان يقول انت طالق انت طالق انت طالق والرابع ان يقول انت طالق ثم طالق ثم طالق فأن كانت المرأة مدخولا بها في هذه الوجوه طلقت ثلاثا اهـ (۱/۳۳۹، 340)) - والله تعالى أعلم بالصواب