بچی کا نام "ریحاب "اور "رحامہ" رکھناکیسا ہے؟ان کا کیا مطلب ہے؟
سوال میں مذکور لفظ” ریحاب“ کا صحیح تلفظ رحاب (راء کے ضمہ کے ساتھ)عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی کشادہ، بڑا، کھلاہوامیدان اوروسیع کے آتےہیں اور دوسرالفظ بھی ”رحامہ “نہیں بلکہ رحمہ (بفتح الراء)یا ”رحما“(بضم الراء)ہے جس کے معنی مہربان ہونا،شفیق ہوناوغیرہ کے آتے ہے،لہذا صحیح تلفظ کے ساتھ یہ دونوں نام رکھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں لیکن اگر سائل نےسوال میں درج غلط تلفظ کے ساتھ بچی کانام رکھ لیا ہویا رکھنا چاہتاہوتو اس تلفظ کا یہ نام رکھنادرست نہیں بلکہ اسے تبدیل کر لینا چاہیئے۔
وفی السنن أبی داؤد: عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ ﷺ إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء أباءکم فأحسنوا أسماءکم الخ (باب فی تغییر الأسماء ج: 2 ص: 329 ط: امدایہ)۔
وفی المعجم الوسیط: (الرحاب) الواسع یقال قدر رحاب (الرحب)الواسع یقال رحب ودار رحبۃ ویقال ھو رحب الصدر واسعہ طویل الأناۃ ورحب الذراع واسع القوۃ عند الشدائد ورحب الذراع والباع سخی ورحب الراحۃ واسعھا کبیرھا وکثیر العطاء ورحب الفھم متسع العقل (إلی قولہ) (رحمت) المرأۃ رحما اشتکت رحمھا فھی رحماء والسقاء لم یدھن ففسد وفلانا رحمۃ ورحما ومرحمۃ رق لہ وعطف علیہ (إلی قولہ) (الرحمی ) بمعنی الرحمۃ الخ (باب الراء ج: 1، ص: 334،335، ط: ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ)۔
وفی القاموس الوحید: الرحاب: بمعنی کشادہ، بڑا، قدر رحاب، بڑی، کشادہ دیکجی الخ (باب الراء، ص: 497، ط: ادارہ اسلامیات)۔
وفیہ ایضاً: رحم فلانا، رحمہ ورحما ومرحمۃ: بمعنی کسی پر مہربان ہونا، شفقت کرنا، ترس کھانا رحم کرنا، معاف کرنا مغفرت کرنا (إلی قولہ) رحمت المرأۃ رحامۃ بمعنی رحمت الخ (باب الراء، ص: 499، ط: ادارہ اسلامیات)۔