میں محمد قاسم ولد واحد بخش 13 مرلے مسجد و مدرسہ کا متولی ہے، میں گورنمنٹ ٹیچر ہو ں ،اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے 5مرلہ مدرسہ جو کہ مکمل بلڈنگ بنی ہوئی تھی ایک مفتی کو حق تولیت کے عنوان پر سو روپے کے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا تھا, کچھ عرصہ پہلے مفتی نےمحکمہ اوقاف والوں کے ساتھ مشورہ کیا اور کوشش کی کہ یہ میرے نام ہو جائے اس کی خبر مجھے ہوئی تو میں نے ایک اور اسٹامپ پیپر نکلوا کر انکو متولیت سے خارج کر دیا اب وہ کہتے ہیں آپکو یہ حق ہی حاصل نہیں اس بارے میں شریعہ کے کیا احکامات ہیں ؟
صورت مسؤلہ میں مذکور مدرسہ خود سائل کی جانب سے وقف کردہ ہو،اور سائل خود ہی اس کا متولی ہو،مگر انتظامی معاملات اس نے کسی مفتی صاحب کے حوالے کیے ہوں ،تاکہ انتظام بحسن خوبی چلتارہے،مگر اس شخص کی بد دیانتی کی وجہ سے سائل(متولی)اسے اب اس عہدہ سے معزول کرنا چاہے تو کرسکتاہے،شرعا اسے اس بات کا اختیار ہے، اور مذکور مفتی صاحب کو بھی اس پر اعتراض کا حق حا صل نہیں۔
كما في ردالمختار:(قوله: للواقف عزل الناظر مطلقا) أي سواء كان بجنحة أو لا وسواء كان شرط له العزل أو لا(باب الوقف،ج:4،ص:427،ط:سعید)
وفيه ایضا:(قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي(باب الوقف،ج:4،ص:421،ط:سعید)
وفی البحر الرائق:وفي الخلاصة إذا شرط في الوقف الولاية لنفسه وأولاده في عزل القيم واستبداله لهم وما هو من نوع الولاية وأخرجه من يد المتولي جاز(الی قولہ) وقال أبو يوسف الولاية للواقف وله أن يعزل القيم في حياته وإذا مات الواقف بطلت ولاية القيم ومشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف(کتاب الوقف،ج:5،ص:226،ط:رشیدیۃ)۔