السلام علیکم! میری شادی کو تقریباً سات سال ہو چکے ہیں اور میرا ایک بیٹا ہے جوکہ چار سال کا ہے۔ میرے شوہر کا مزاج بہت سخت ہے۔ وہ معمولی باتوں پر گالیاں دیتے ہیں، اور سڑک پر بھی مجھ پر چیخنے لگتے ہیں۔ غصے میں مجھے بری طرح دھکا دیتے ہیں، اور تین بار مجھ پر ہاتھ بھی اٹھا چکے ہیں۔ وہ گھریلو خرچ، میکے آنا جانا اور ہر معاملے میں مجھے تنگ کرتے رہے ہیں۔ تقریباً ایک سال سے ہم الگ رہ رہے ہیں، اور اس دوران انہوں نے بیٹے کا خرچہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اب میری برداشت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں نے خلع (عدالتی کارروائی کے بغیر آپسی معاہدے سے) لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر اس کے بدلے میں وہ نہ صرف مہر (جو انہوں نے آج تک نہیں دیا) مانگ رہے ہیں، بلکہ شادی کے وقت جو سونا مجھے دیا گیا تھا، وہ بھی واپس مانگ رہے ہیں۔ اب وہ یہ بھی ماننے سے انکار کر رہے ہیں کہ وہ سونا تحفہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں خلع لوں گی تو وہ یہ سب چیزیں واپس لیں گے، ورنہ طلاق نہیں دیں گے۔ میرا سوال یہ ہے کہ: اسلامی شریعت کے مطابق جو سونا مجھے شادی کے وقت تحفے میں دیا گیا تھا، اس پر حق کس کا ہے؟ کیا مجھے اس بارے میں کوئی شرعی فتویٰ مل سکتا ہے؟ امید ہے جلد جواب ملے گا۔ جزاک اللہ خیرا!
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،تو شوہر کا مذکور طرز ِعمل شرعاً درست نہیں جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ،لہذا شوہر پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز ِعمل سے باز آکر بیوی بچوں کے نان ونفقہ وغیرہ اور دیگر حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے، تاکہ طلاق اور علیحدگی تک نوبت نہ پہنچے ،لیکن اگر شوہر سمجھانے کے باوجود بھی اپنے رویے اور طرزِعمل سے باز نہ آئے اور میاں بیوی کے درمیان نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے شوہر سے طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنا شرعاً جائز اور درست ہو گا ،لیکن ایسی صورت حال میں بھی شوہر کو چاہیئے کہ وہ بیوی کو لٹکا ئے رکھنے کے بجائے بلا عوض اسے اپنی زوجیت سے آزاد کردے ،لیکن اگر شوہر بلا عوض طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو طلاق یا خلع کے عوض طے شدہ حقِ مہر سے زائد کا مطالبہ کرنا اس کےلئے مناسب نہیں ،جس سے اجتناب کیا جائے ۔البتہ شادی کے وقت جو سونا سائلہ کو شوہر کی طرف سے دیا گیا تھا تو اس کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ شادی کے موقع پر حقِ مہر کے زیورات کے علاوہ جو زیورات دلہن کو سسرال والوں کی طرف سے پہنائے جاتے ہیں،عرفِ عام کے مطابق وہ محض استعمال کے لئے دیئے جاتے ہیں،ان کا مالک نہیں بنایا جاتا،اس لئے بوقتِ علیحدگی وہ زیورات واپس لئے جاتے ہیں،چنانچہ سائلہ کے شوہر کے ہاں بھی اگر یہی عرف ہو تو وہ ان زیورات کو سائلہ سے واپس لے سکتا ہے،البتہ اگر وہ زیورات صراحۃً مالک بنا کر دیے گئے تھے اور اس پر سائلہ کو مالکانہ تصرفات حاصل تھے یعنی وہ شوہر کی اجازت کے بغیر ان زیورات کو بیچنا چاہتی تو شوہر کی جانب سے اس پر کوئی قدغن نہ ہوتی تو وہ زیورات اسی کی ملکیت شمار ہوں گے،اس لئے ان زیورات کی واپسی کا مطالبہ درست نہیں، البتہ اگر شوہر مذکور زیور بیوی کی ملکیت تسلیم کرنے کے باوجود بطور مصالحت مطالبہ کررہا ہو تو اگرچہ شرعاً یہ معاملہ نا پسندیدہ ہے، تاہم اگر بیوی اس سے چھٹکارہ پانے کےلئے دینے پر آمادہ ہوجائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
کما فی الھندية :إذا تشاق الزوجان و خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسھا منه بمال يخلعھا به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة و لزمھا المال (إلی قولہ) إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع و هذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم و لزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع. و إن كان النشوز من قبلھا كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المھر و لكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان إلخ ( الباب فی الخلع و ما فی حکمہ، ج 1، ص 488، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا أیضا: و إذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافھا منھا ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليھا على جھة التمليك، كذا في الفصول العمادية إلخ(فصل فی جھاز البنت،ج 1، ص 327، ط: ماجدیۃ)۔
و فی الدر المختار: ( و ) القول ( لھا ) بیمینھا ( فی المھیأ لہ ) کخبز و لحم مشوی، لأن الظاھر یکذبہ إلخ
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ لأن الظاھر یکذبہ ) ومن ذلك ما يبعثه إليھا قبل الزفاف في الأعياد و المواسم من نحو ثياب و حلي، و كذا ما يعطيھا من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس و يسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المھر و لا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنھا ثیابا و نحوھا صبحیۃ العرس أیضا إلخ
و فیھا أیضاً : المختار للفتوى أن يحكم بكون الجھاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب. و أما إذا جرت في البعض يكون الجھاز تركة يتعلق بھا حق الورثة هو الصحیح (إلی قولہ) و المعتمد البناء علی العرف کما علمت إلخ ( باب المھر، ج 3،ص 153۔157، ط: سعید )۔