مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ (NRSP) ایک بینک ہے ، جس کا ہیڈ آفس کراچی میں ہے اور پورے ملک میں اس کے برانچ ہیں، جو لوگوں کو گھروں، گاڑیوں اور کاروبار وغیرہ کے لئے قرضہ دیتے ہیں، اور اس پر ایک مخصوص فیصد نفع کماتے ہیں، مثلاً میں نے پانچ لاکھ گھر بنانے کے لئے قرضہ لیا دو سال میں یہ قرضہ ختم ہو گیا، ہر مہینہ میں اس کو تیس ہزار روپے ادا کرتا ہوں ، دو سال میں یہ بینک مجھ سے پانچ لاکھ میں ایک لاکھ کمائے گا اور بینک مجھ کو نقد پیسے نہیں دیتے، بلکہ میرے لئے گھر بنانے کے لئے سریا، سیمنٹ بجری سستے داموں خریدتے ہیں اور میرے اوپر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، کیا یہ عمل ٹھیک ہے ؟
ہمیں مذکور بینک کے عملی طریقہ کار کا مکمل علم نہیں کہ اس کے معاملات میں با قاعدہ شرعی اصول و ضوابط کا خیال رکھا جاتا ہے یا نہیں ؟ تاہم اگر مذکور بینک اپنے کسٹمر کو قرض دینے کے بجائے ان کی ضرورت کے مطابق مطلوبہ چیز از خود یا اپنے وکیل کے توسط سے خرید کر قبضہ میں لانے کے بعد کسٹمر کو ادھار مہنگے دام فروخت کرتا ہو اور اس میں دیگر شرعی امور کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ لین دین کرنے کی گنجائش ہو گی ورنہ نہیں، جبکہ مذکور بینک کے معاملات اگر با قاعدہ مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی انجام نہ پاتے ہوں تو ایسی صورت میں بہر حال اس کے ساتھ لین دین کرنے میں غلطی کے امکانات بہت زیادہ ہیں، اس لئے سائل کو مذکور بینک کے ساتھ لین دین کرنے کے بجائے مستند مفتیانِ کرام کے زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دینے والے کسی غیر سودی بینک کے ساتھ لیے لین دین کرنا چاہیئے۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0