ہدیہ

بیٹوں کے نام کیے ہوئے مکان میں ترکہ کا حکم

فتوی نمبر :
82343
| تاریخ :
2025-04-26
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

بیٹوں کے نام کیے ہوئے مکان میں ترکہ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !ہم چار بھائی (ف،ا،ع ،ر) ہیں ، ہمارا مکان کی تقسیم میں اختلاف ہے ،براہِ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ہمارے والد صاحب کا ایک رہائشی مکان جو کہ تقریباً ساڑھے چار مرلے کا تھا ،اور 88-1987 میں تعمیر ہوا تھا،والد صاحب نے 1984 میں چھ مرلے کا ایک پلاٹ خود خرید کر اپنے تین بیٹوں ( ا،ع،ر)کے نام رجسٹری کروایا،1998 میں زبانی تقسیم سے والد صاحب نے تعمیر شدہ مکان دو بیٹوں ( ف،ا)کو دیا ، اور خالی پلاٹ جو کہ تین بیٹوں ( ا،ع،ر) کے نام رجسٹرڈ تھا، وہ دو بیٹوں ( ع،ر)کو دیا ،مذکورہ پلاٹ پر تعمیر کے بعد دو بھائی ( ع،ر) نئے مکان میں منتقل ہوگئے ، اور دوسرے دو بھائی ( ف،ا) آبائی مکان میں رہنے لگے ، اور بعد میں آپس میں تقسیم کر کے اپنی سہولت کے مطابق اپنے اپنے حصے میں مزید تعمیرات کیں ، 2014 میں ایک بھائی ( ا)جس کا نام رجسٹری میں شامل تھا، اس نے باقی دو بھائیوں ( ع،ر)سے مکان میں سے حصے کا مطالبہ کر دیا ، اور عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا، تین یا چار سال تک کوئی فیصلہ نہ ہوا ، اور موصوف نے عدالت سے کیس واپس لے لیا ، 2024 میں مکان پر قابض بھائیوں میں سے ایک بھائی ( ر)نےاپنا حصہ دوسرے بھائی ( ع)کو فروخت کر دیا، اب تیسرا بھائی پھر مطالبہ کر رہا ہے کہ مجھے مکان کا ایک تہائی حصہ دے دیا جائے، کیونکہ میرا نام رجسٹری میں شامل ہے، جبکہ آبائی گھر والا حصہ بھی اس کے پاس ہے ، اور نئے مکان کی تعمیر میں بھی اس نے کچھ خرچ نہیں کیا ہے، والد صاحب ابھی زندہ ہے، اور زبانی تقسیم پر قائم ہے، براہِ مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللّہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنے تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے، اس میں جائز تصرف کرسکتاہے، اس پر اس کی تقسیم لازم اور ضروری نہیں اور نہ ہی اولاد میں سے کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو اپنی جائداد کی تقسیم پر مجبورکرے،البتہ اگرکوئی شخص اپنی صحت والی زندگی میں بلاجبرواکراہ محض اپنی مرضی وخوشی سےاپنا مال وجائیداد اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا اختیارہے، اور یہ تقسیمِ ترکہ نہیں ، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلائیگا۔ اور اس ہبہ ( گفٹ )کی تقسیم میں مناسب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ تمام اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) کے درمیان برابری کرکےہر ایک کو اس کا حصہ دوسرے کے حصہ سے الگ کر کے اس پر باقاعدہ مالک وقابض بھی بنا دیا جائے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاًبھی درست اور تام ہوسکے ،محض کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ، اور اولاد میں سے بلاوجہ کسی کو اپنی جائیداد سے بالکلیہ محروم نہ کرے یہ گناہ کی بات ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے والد نے اگر 1998 میں زبانی تقسیم سے تعمیر شدہ مکان دو بیٹوں ( ف،ا)کو باقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرف کے ساتھ حوالے کر کے دوسرے دو بیٹوں کو خالی پلاٹ دیکر ان کے تصرف میں دیدیا ہے، تو یہ ہبہ شرعاً بھی درست ہو چکا ہے،لہذا اب کسی بھائی کا رجسٹری میں نام کی موجودگی کو بنیاد بنا کر ان بھائیوں سے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعی واخلاقی ہر دو اعتبار سے درست نہیں، جس سے احتراز چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح : عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ ﷺ ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ ( باب العصب و العاریۃ ، ج 1، ص 255، ط قدیمی )۔
و فی الدر المختار : ( و تتم ) الھبۃ ( بالقبض ) الکامل ( و لو الموھوب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) و الاصل ان الموھوب إن مشغولا بملک الواھب منع تمامھا و ان شاغلا لا الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قوله: بالقبض الكامل) وكل الموهوب له رجلين بقبض الدار فقبضاها جاز خانية (قوله منع تمامها) إذ القبض شرط فصولين، وكلام الزيلعي يعطي أن هبة المشغول فاسدة والذي في العمادية أنها غير تامة قال الحموي في حاشية الأشباه: فيحتمل أن في المسألة روايتين كما وقع الاختلاف في هبة المشاع المحتمل للقسمة، هل هي فاسدة أو غير تامة؟ والأصح كما في البناية أنها غير تامة، فكذلك هنا كذا بخط شيخنا ومنه يعلم ما وقعت الإشارة إليه في الدر المختار، فأشار إلى أحد القولين بما ذكره أولا من عدم التمام، وإلى الثاني مما ذكره آخرا من عدم الصحة فتدبر أبو السعود الخ( کتاب الھبۃ ، ج 5 ص 690، ط : ایچ ایم سعید )۔
و ایضا فیھا: (ويمنع الرجوع فيها) حروف (دمع خزقه) يعني الموانع السبعة الآتية (فالدال الزيادة) في نفس العين الموجبة لزيادة القيمة (المتصلة) وإن زالت قبل الرجوع كأن شب ثم شاخ لكن في الخانية ما يخالفه، واعتمده القهستاني فليتنبه له؛ لأن الساقط لا يعود (كبناء وغرس) إن عدا زيادة في كل الأرض وإلا رجع ولو عدا في قطعة منها امتنع فيها فقط زيلعي الخ الخ ( کتاب الھبۃ ، ج5،ص 699، ط : سعید )۔
و فی شرح المجلۃ : لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ و لم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ، لا یسقط بعذر الخطاء و النسیان و الھزل و غیرہ و ذلک کالغصب و السرقۃ ( الی قولہ ) ثم نقل عن شرح الوھبانیۃ ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ، الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ و استھلکہ القابض الخ ( الامر بالمعروف فی ملک الغیر باطل، المادۃ 97، ص 264، ط : اسلامیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82343کی تصدیق کریں
0     1
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات