السلام علیکم! مفتی صاحب آ پ سے ایک رہنمائی چاہیے تھی، ہمیں اپنے بچے کا نام رکھنے کے لئے آ پ سے مشورہ کرنا تھا، ہم نے دو نام منتخب کیے ہیں، آ پ برائے مہربانی ان دونوں کے بارے میں اصلاح فرما دیں کہ یہ نام صحیح ہیں یا نہیں؟ ایک نام “زوہان”ہے اور دوسرا “ازلان”ہے اور ان کے آ پ لغت کی روشنی میں معنیٰ بھی بتا دیجئے گا۔ شکریہ
سوال میں مذکور ناموں ”زوہان“ اور ”ازلان“ کے معنی بہت تتبع وتلاش کے باوجود معروف لغات اردو، عربی میں نہیں ملے، تاہم اگر کسی لغت میں اس کا معنی درست اور مناسب ہو تو ان کو بطورِ نام منتخب کرنا درست ہوگا، ورنہ اس طرح بے معنی ناموں کے بجائے بچوں کا نام صحابہ کرام۔ رضی اللہ عنہم۔ اور امت کے نیکو کار لوگوں کے نام پر رکھنے کا اہتمام چاہیئے۔
کما فی سنن أبی داؤد: حدثنا عمرو بن عون (إلی قولہ) عن أبی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسماءکم وأسماء آباءکم فأحسنوا أسماءکم، الحدیث(باب فی تغییر الاسماء، ج 2، ص 328، ط: امدادیۃ)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم و لا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لايفعل، كذا في المحيط الخ(الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الأولاد الخ، ج 5، ص 362، ط: ماجدیۃ)۔