پشاور میں ایک دینی کتابیں چھاپنے والا ادارہ ہے جو اکثر بیروت اور دوسرے ممالک کی کتابوں کی بغیر اجازت کے نقل تیار کرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ مقامی کتابوں کی بھی نقل بناتا ہے جو کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کیا شرعی اعتبار سے اس ادارے کے ساتھ کام کرنا، مثلاً کتابوں کی کمپوزنگ کرنا اور اس کے بدلے میں اجرت لینا جائز ہے؟ نیز، اس ادارہ کا کاپی رائٹ کے اصولوں کے خلاف کام کرنا شرعا جائز ہے کہ نہیں ؟
واضح ہوکہ جن کتابوں کے حقوقِ طبع محفوظ ہوں اور پبلشر کی طرف سے ان کی طباعت کی عام اجازت نہ ہو، ایسی کتابوں کو تجارتی مقصد سے چھاپ کر بیچنا معاصر فقهاء کرام کے نزدیک مختلف فیہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں حقِ طباعت (کاپی رائٹ) کی قانونی حیثیت مضبوط ہو چکی ہے، اور تاجروں و ناشران کے عرف میں بھی یہ ایک معتبر حق تسلیم کیا جاتا ہے، خصوصاً بین الاقوامی سطح پر اس کو قانونی و عرفی طور پر مانا جاتا ہے۔
اس لیے راجح قول یہی ہے کہ اگر کسی کتاب کا حقِ طباعت پبلشر نے محفوظ کر رکھا ہے، تو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حق میں کوئی تصرف کرنا، اور تجارتی بنیاد پر اس کتاب کو چھاپنا اور فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں۔
لہٰذا جو ادارہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی کتابیں چھاپتا ہو، اورمعلوم ہونے کے باوجوداس کے ساتھ طباعت، کمپوزنگ، ڈیزائننگ یا دیگر کاموں میں اجارہ کامعاملہ کرنادراصل اس کی دھوکہ دہی اورخیانت میں تعاون کرنا ہوگا ،جس سے بہرصورت گریزکرناچاہیے ۔
کمافی فقه البیوع: قال الشیخ تقی العثمانی: إن من سبق إلی ابتکار شیئی جدید،سواء أکان مادیاأم معنویا،فلاشک أ نه أحق من غیرہ بانتاجه لانتفاعه بنفسه وإخراجه إلی السوق من أجل اکتساب الأرباح وذلک لماروی أبوداود عن أسمر بن مضرس رضی اللہ عنه قال: أتیت النبی صلی الله علیه وسلم فبایعته،فقال: من سبق إلی مالم یسبقه مسلم فهوله(1/282: مکتبه معارف القرآن، کراچی)
وإن كان العلامة المناوی رحمه الله تعالی رجح أن هذالحدیث وارد فی سیاق إحیاء الموات،ولکنه نقل عن بعض العلماء أنه یشمل کل عین وبئرومعدن ومن سبق لشئی منها فهي له ولاشک أن العبرة لعموم اللفظ،لالخصوص السبب
وفيه أيضا:الراجح عندنا والله سبحانه و تعالی أعلم أن حق الابتکار والتألیف حق معتبر شرعا، فلایجوز لأحد أن یتصرف فی ہذا الحق بدون إذن من المبتکر أو الموٴلف الخ (286/1)