السلام علیکم !
سوال یہ ہے کہ کیا عام حالات میں کسی مسلمان عورت کے لیے غیر مسلم عورت سے زچگی کروانا جائز ہے؟ اور کیا یہ حکم اہلِ کتاب (یعنی عیسائی عورتوں) کے لیے بھی یکساں ہے؟ہمارے پاس دو ہسپتالوں کے آپشن ہیں۔ پہلے ہسپتال میں ڈاکٹر مسلمان ہیں، جبکہ نرسیں مسلمان اور عیسائی دونوں ہو سکتی ہیں۔ ہمیں یہ اختیار نہیں کہ کس نرس سے زچگی کروائی جائے، بلکہ جس وقت جو نرس ڈیوٹی پر ہو، وہی یہ عمل انجام دے گی۔ یہ ہسپتال کافی اچھا، بھروسہ مند اور معروف ہے، اور یہاں زیادہ تر نارمل ڈیلیوریاں کی جاتی ہیں۔
دوسرے ہسپتال میں بھی ڈاکٹر مسلمان ہیں، مگر نرس کے بارے میں یقین نہیں ہے کہ کون ہیں، البتہ غالب گمان یہی ہے کہ مسلمان ہوں گی۔ اس ہسپتال اور ڈاکٹر کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں، صرف ایک دو لوگوں سے تعریف سنی ہے۔ اس بات کی بھی وضاحت نہیں کہ یہاں کس حد تک نارمل ڈیلیوریاں کی جاتی ہیں۔
ایسے میں کیا ہم پہلے ہسپتال کا انتخاب کر سکتے ہیں، جہاں ہمارا دل زیادہ مطمئن ہے اور ڈاکٹر بھی اچھی ہیں؟ واضح رہے کہ ان دو ہسپتالوں کے علاوہ باقی ہسپتال یا تو ہمارے لیے نامعلوم ہیں یا پھر تھوڑے فاصلے پر واقع ہیں جن کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔
علاج معالجہ کے باب میں فقہاءِ کرام نے چوں کہ معالج کے مسلمان ہونےکی شرط نہیں لگائی؛ اس لیے اگر کوئی ماہر دین دار مسلم ڈاکٹر دست یاب نہ ہو تو مجبوراً کسی غیر مسلم معالج سے بھی علاج کروایا جا سکتا ہے۔ لہذاصورت مسئولہ میں ضرورت اور مجبوری کے وقت، جب مسلمان نرس بآسانی دستیاب نہ ہو، یا علاج کے لیے معروف و ماہر طبی عملہ صرف غیر مسلم خواتین پر مشتمل ہو، تو اہلِ کتاب (عیسائی وغیرہ) عورت سے زچگی کروانا جائز ہے، بشرطیکہ پردے اور ستر کی حتی المقدور رعایت کی جائے ۔
کما فی البحر الرائق: و فيه إشارة إلى أن المريض يجوز له أن يستطب بالكافر فيما عدا إبطال العبادة اھ (303/2)۔