ایک نوجوان شعیہ نے یہ سوال کیا ہے حدیث میں آتاہے کہ بہترین نام عبداللہ عبدالرحمان ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تینوں بیٹوں کا یہ نام کیوں نہیں رکھا ؟ معقول جواب ارشاد فرما دیجیۓ۔باحوالہ
اولاً:يه اعتراض لاعلمی پرمبنی ہے، کیونکہ کتب سیرۃوتاریخ میں نبی کریم ﷺ کا اپنے ایک بیٹے کا نام "عبداللہ" رکھنا منقول ہے۔
کمافی الاستيعاب في معرفة الأصحاب»: «واختلف في الذكور، فقيل أربعة: القاسم، وعبد الله، والطيب، والطاهر. وقيل: ثلاثة، ومن قال هذا قال عبد الله سمي الطيب، لأنه ولد في الإسلام، ومن قال غلامان قال القاسم، وبه كان يكنى صلى الله عليه وآله وسلم، وعبد الله قيل له الطيب والطاهر، لأنه ولد بعد المبعث، وولد القاسم قبل المبعث، ومات القاسم بمكة قبل المبعث، وقد ذكرنا الاختلاف»(1/ 50)
ثانیاً: مذکورحدیث فضیلت بیان کرتی ہے، وجوب نہیں ،اگر اللہ تعالیٰ کو "عبداللہ" اور "عبدالرحمٰن" سب سے محبوب نام ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم ﷺ یا دیگر انبیاء پر لازم تھا کہ صرف یہی نام رکھتے۔ آپ ﷺ نے امت کو عمومی ہدایت دی، لیکن خود بھی دیگر خوبصورت نام رکھنا اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ کے دیگربیٹوں کے نام (قاسم، طیب، طاہر، ابراہیم) بھی اچھے، بامعنی، اور نیک صفات پر مبنی تھے، نبی کریمﷺنے ایک بیٹے کا عبداللہ نام حصول فضیلت کے لیے رکھاجبکہ بیان جوازکے لیے دوسرے صاحبزادوں کے نام یہ نہیں رکھے ۔لہٰذا یہ کوئی علمی اعتراض نہیں ، اس پربحث بازی کرنے بجائے اعراض کرنابہترہے۔