جب حاملہ تھی میں نے عمرہ ادا کیا جو زندگی کا پہلا عمرہ تھا ،میں نے وہاں کعبے کے غلاف کو پکڑ کر دعاء مانگی ،یا اللہ مجھےبچی دے ،اور میں نے کہا اگر مجھے بچی دی تو میں اس کا نام "کسا" (کعبے کا غلاف ) رکھوں گی ،لیکن جب وہ پیدا ہوئی تو اس کے دادا نے اس کا نام جویریہ رکھا ،میں نے خواب میں دیکھا جس میں بہت سے لوگ میری بیٹی کے ارد گرد جمع ہیں اور ان کی بڑی سفید داڑھیاں ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری بچی کو رکھ لیتے ہیں ،پہلے جاؤ اپنے وعدے کو پورا کرو ،اور اس کا نام کساء رکھو اور پھر آکر لے جاؤ ،میری بیٹی ابھی دس ماہ کی ہے اور ایک ہفتے سے اس نے رات کو رونا شروع کیا ہے اور چیختی ہے "امی ،امی "اسے کوئی جسمانی بیماری بھی نہیں لیکن وہ روتی ہے ،کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میں کیا کروں؟
اگرچہ سائلہ پر مذکور نذر کا پورا کرنا اور بچی کا نام "کساء"رکھنا شرعاً لازم نہیں بلکہ "جویریہ "نام بھی بہت اچھا اور امہات المؤمنین کے ناموں میں سے ہے, اسی کو برقرار رکھے تو وہ شرعاً گناہ گار نہ ہوگی ،اور عنداللہ اس کی پوچھ بھی نہ ہوگی ،تاہم اگر "کساء"نام رکھ لیاجائے تو اس میں بھی حرج نہیں ،مگر سائلہ کو جو خواب آیا ہے یہ محض اس کی ذہنی تشویش اور وسوسہ کا نتیجہ ہے،اگر وہ تبدیلئِ نام کی سوچ چھوڑ دے اور بچی کا جو نام اس کے دادا نے تجویز کیا ہے اسے دل سے تسلیم کرلے اور اپنے ذمہ عبادات پوری کرتی رہے تو آئندہ کیلئے اسے اس قسم کے خواب اور خیالات بھی نہیں آئیں گے۔
کمافی الشامیة:ومن شروطه ان یکون قربة مقصودۃ فلا یصح النذر بعیادة المریض (إلی قوله) فھذا صریح فی ان الشرط کون المنذور نفسه عبادة مقصودة لا ما کان من جنسه (3/735) -