نام رکھنے کا حکم

جس شخص کا نام معنی کے اعتبار سے درست نہ ہوتو دفتر میں انٹری کرنے والایہ نام لکھنے سے گناہ گار تو نہ ہوگا؟

فتوی نمبر :
80740
| تاریخ :
2025-01-18
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

جس شخص کا نام معنی کے اعتبار سے درست نہ ہوتو دفتر میں انٹری کرنے والایہ نام لکھنے سے گناہ گار تو نہ ہوگا؟

السلام علیکم ! میرا تعلق ایک سرکاری ادارے سے ہے، ہمارے ساتھ ایک شخص کام کرتا ہے ،جو اپنا نام انگریزی میں ”خالق الرحمان“ لکھو اتا ہے، کیا اس نام کا مطلب شرعی طور پر ٹھیک ہے؟ اور اگر غلط ہے تو اس طرح سے لکھ کر دینے پر کوئی گناہ تو نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

”خالق الرحمان“ نام رکھنا شرعی اعتبار سے درست نہیں، لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ نرمی اور مصلحت کے ساتھ اپنے دفتری ساتھی کو اس حکمِ شرعی سے آگاہ کر کے نام بدلنے پر آمادہ کرے اور” خالق الرحمان“ نام کے بجائے ”خلیق الرحمان“ نام رکھنے کی تجویز دے، اور جب تک وہ اپنا نام تبدیل نہیں کرتا ،اس وقت تک بامرٍ مجبوری کاغذات میں اس شخص کا نام ”خالق الرحمان “لکھنے سے سائل گناہ گار نہیں ہوگا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سرتاج خان ملی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80740کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات