السلام علیکم! جناب میرا ایک سوال ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کسی مشتبہ پر جرم ثابت کرنے کیلئے گواہ کی ضرورت ہوتی ہے، آج کی جدید دنیا میں جہاں سائنس اور ٹیکنا لوجی نے ترقی کی ہے، کیا ڈی این اے ٹیسٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو وسیع، حتمی یا محدود ثبوت سمجھا جاسکتا ہے؟ مثلاً زنا کو ثابت کرنے کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہے؟ یا پھر گواہ یا ثبوت؟ جزاک اللہ
شریعتِ مطہرہ میں ایسے جرائم جن پر حدود و قصاص جاری ہوتے ہیں، ان کے ثبوت کے لئے باقاعدہ گواہان کی شرعی گواہی کا ہونا ضروری ہے، محض تائیدی ثبوت اور قرائن سے حدود وقصاص جاری نہیں کئے جاسکتے، بلکہ معمولی شبہات کی وجہ سے بھی ساقط ہو جاتے ہیں، لہذا” ڈی این اے“ اور ”سی سی ٹی وی فوٹیج “ و غیرہ باقاعدہ شرعی شہادت نہیں، بلکہ ایک تائیدی ثبوت ہے، اس لئے فقط ان تائیدی ثبوتوں اور قرائن کو شہادت کا درجہ دیکر حکم شرعی نہیں لگایا جاسکتا، البتہ اس کے ذریعہ اگر ملزم اعتراف جرم کرلیتا ہے تو اقبال جرم کے بعد اس اقرار کی وجہ سے اس پر شرعی احکام نافذ ہوں گے۔
کما قال اللہ تعالی: والٰتی یأتین الفاحشۃ من نسآئکم فاستشھدوا علیھن أربعۃ منکم فإن شھدوا فأمسکوھن فی البیوت حتی یتوفٰھن الموت أو یجعل اللہ لھن سبیلاً، الآیۃ(سورۃ النساء، آیت 15)۔
وقال تعالی: لولا جآءوا علیہ بأربعۃ شھداء فإذن لم یأتوا بالشھداء فاولئک عند اللہ ھم الکٰذبون، الآیۃ(سورۃ النور، آیت 13)۔
وفی جامع الترمذی: حدثنا عبد الرحمن بن الاسود (إلی قولہ) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "ادرؤوا الحدود عن المسلمین ما استطعتم، فإن کان لہ مخرج فخلوا سبیلہ، فان الإمام أن یخطئ فی العفو خیر من أن یخطئ فی العقوبۃ" الحدیث(باب ماجاء فی درء الحدود، ج 1، ص 544، ط: البشری)۔
وفی الدر المختار: (ویثبت بشھادۃ أربعۃ) رجال (فی مجلس واحد) فلو جاءوا متفرقین حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجرد لفظ (الوطء والجماع) (إلی قولہ) (فیسألھم الإمام عنہ ما ھو) أی عن ذاتہ وھو الإیلاج عینی(وکیف ھو وأین ھو ومتی زنی وبمن زنی) لجواز کونہ مکرھا أو بدار الحرب أو فی صباہ أو بأمۃ ابنہ فیستقصی القاضی احتیالا للدرء (فان بینوہ وقالو رأیناہ وطئھا فی فرجھا کالمیل فی المکحلۃ) ھو زیادۃ بیان احتیالا للدرء (وعدلوا سرا وعلنا) إذا لم یعلم بحالھم (حکم بہ) وجوبا الخ(کتاب الحدود، ج 4، ص 7،8، ط: سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: أما أقسام الشهادة فمنها الشهادة على الزنا وتعتبر فيها أربعة من الرجال، ومنها الشهادة ببقية الحدود والقصاص تقبل فيها شهادة رجلين، ولا تقبل في هذين القسمين شهادة النساء هكذا في الهداية الخ(كتاب الشهادات، الباب الثاني في بيان تحمل الشهادة وحد أدائها والامتناع عن ذلك، ج 3،ص 451، ط:ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: ويثبت الزنا عند الحاكم ظاهرا بشهادة أربعة يشهدون عليه بلفظ الزنا لا بلفظ الوطء والجماع كذا في التبيين الخ(كتاب الحدود ،الباب الثاني في الزنا، ج 2، ص 143، ط: ماجدیۃ)۔