محترم مفتی صاحب! چمڑے کی اشیاء استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟ ہمارے ملک میں بیرونِ ملک سے درآمد شدہ چمڑے کی جیکٹس کو کاٹ کر نئی شکل دے کر فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ عام طور پر یہ بات معلوم ہے کہ وہاں جانور شرعی طریقے کے مطابق ذبح نہیں کیے جاتے۔ ایسی صورت میں ان چمڑے کی اشیاء کے استعمال اور ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
بیرونِ ملک سے آنے والی چمڑے کی جیکٹس کے بارے میں اگرچہ غالب گمان یہ ہو کہ وہ غیر شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانوروں کے چمڑے سے تیار کی گئی ہیں، تاہم غیر شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانور کی کھال بھی دباغت کے بعد پاک ہوجاتی ہے؛ لہٰذا خنزیر کے علاوہ دیگر جانوروں کے دباغت شدہ چمڑوں سے بنی جیکٹس کا استعمال اور ان کی خرید و فروخت جائز ہے۔ البتہ خنزیر چونکہ نجس العین ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے خنزیر کے چمڑے سے بنی جیکٹس کا استعمال اور خرید و فروخت جائز نہیں۔
کما فی الدر المختار مع الرد:کل اہاب دبغ وہو یحتملہا طہر خلا جلد الخنزیر فلا یطہر (قال المحقق) ای لانہ نجس العین بمعنی ان ذاتہ بجمیع اجزائہ نجسۃ (۱/۲۰۳‘۲۰۴)
وفی الہدایۃ: ولا بیع جلود المیتۃ قبل ان تذبح… ولا باس ببیعہا والانتفاع بہا بعدالدباغ لانہا طہرت بالدباغ … الخ(۳/۵۵)