السلام علیکم ،میرے نانا صاحب فوت ہوئے ہیں، ورثاء میں دو بیٹے (میرے ماموں) ایک بیٹی (میری والدہ) ہیں، میرے نانا صاحب نے ایک زمین 40 سال پہلے میری والدہ کو دی تھی جو آج تک ہمارے قبضہ میں ہے ،اب اس زمین کے بارے میں میری والدہ کا روز اول سے یہ دعوی ہے کہ یہ مجھے میرے والد صاحب نے ہبہ کی ہے، اب والدہ صاحبہ کے پاس کوئی اسٹام پیپر،ہبہ نامہ یا اور کوئی تحریری ثبوت نہیں ہے اور نانا صاحب کے کچھ دوست جن کو اس ہبہ کے بارے میں پتہ تھا ،اگرچہ باقاعدہ گواہ نہیں بنائے گئے تھے، وہ بھی سب فوت ہو چکے ہیں، اب میری والدہ قسم کھانے کے لیے بھی تیار ہے، ایک بات ضرور ہے کہ یہ زمین کاغذات میں میرے دونوں ماموں کے نام پر ہے، لیکن اس زمین کو خریدنے کے دن سے لے کر آج تک ایک دن کے لیے بھی ماموں کے قبضے میں نہیں آئی ،بلکہ ہمارے قبضہ میں رہی ہے ،اب میرا سوال یہ ہے کہ (۱) والدہ صاحبہ کا دعوی کرنا اور قسم کھانا شرعا ً معتبر ہے یا نہیں؟(۲) ماموں کا دعوی سے انکار شرعاًکیسا ہے؟ (۳) اگر ہبہ کا دعوی درست نہیں تو زمین ترکہ شمار ہوگی یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی کمی بیشی اور غلط بیانی کا سہارا نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل کی والدہ کو اس کے مرحوم والدنے اپنی زندگی میں مذکور زمین خرید کردی تھی اور اس پرباقاعدہ مالکانہ قبضہ اور تصرفات کا مکمل اختیار بھی دیدیا تھا جو تاحال برقرارہے، تو محض سائل کے ماموں کے نام کاغذات میں ہونے کی وجہ سے ان کا مذکور زمین پر اپنا یا مرحوم والد کی ملکیت کا دعوی شرعاً معتبر نہیں ہے ،بلکہ وہ زمین سائل کی والدہ کی ہی ملکیت شمار ہوگی ،اور اس کے متعلق سائل کی والدہ کا دعوی تسلیم کیا جائے گا، لہذا سائل کے مامو ں کو اس کے متعلق نزاع پیدا کرنے سے احتراز چاہیئے۔
کمافی التاتارخانیۃ: وفی ھبۃ الأصل: إذاقال ھی لك فأقبضھا فھی ھبۃ، وفی الأصل جعلت ھذہ الدار لك فأقبضھا فھی ھبۃ؛ وفی الخانیۃ أو قال ھی لك تسکنھا فھی ھبۃ، الخ (کتاب الھبۃ، الفصل الاول الفاظ الھبۃ وما یقوم مقامھا، المرقم: 21540، ج 14، ص 414، ط: مکتبۃ رشیدیۃ)-
وفی الھدایۃ: والقبض لا بد منه لثبوت الملك، وقال مالك: يثبت الملك فيه قبل القبض اعتبارا بالبيع، وعلى هذا الخلاف الصدقة، ولنا قوله: "لا تجوز الهبة إلا مقبوضة" والمراد نفی الملك، لأن الجواز بدونه ثابت، ولأنه عقد تبرع، وفی إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح، الخ ( کتاب الھبۃ، ج 3، ص 222، ط: دار إحیاء التراث العربی)-
وفی الشامیۃ: لو طالت مدة دعواه بلا عذر ثلاثا وثلاثين سنة لا تسمع كما أفتى به فی الحامدية أخذا مما ذكره فی البحر فی كتاب الدعوى عن ابن الغرس عن المبسوط إذا ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين سنۃ، ولم يكن مانع من الدعوى ثم ادعى لا تسمع دعواه؛ لأن ترك الدعوى من التمكن يدل على عدم الحق ظاهرا اھ وفی جامع الفتوى عن فتاوى العتابی قال المتأخرون من أهل الفتوى: لا تسمع الدعوى بعد ست وثلاثين سنة إلا أن يكون المدعی غائبا أو صبيا أو مجنونا وليس لهما ولی أو المدعى عليه أميرا جائرا اھ ونقل ط عن الخلاصة لا تسمع بعد ثلاثين سنة اهـ. ثم لا يخفى أن هذا ليس مبنيا على المنع السلطانی بل هو منع من الفقهاء فلا تسمع الدعوى بعده وإن أمر السلطان بسماعها، الخ (کتاب القضاءچ، فصل فی الحبس، مطلب إذا ترك الدعوى ثلاثا وثلاثين سنة لا تسمع، ج 4، ص 421-422، ط: ایچ ایم سعید)-