اگر میں کسی کو قرض دیتا ہوں اور وہ مجھے کچھ رقم بطور انعام دیتا ہے، کیا یہ حلال ہوگا یا حرام؟ قرض لینے والے پر یہ دینے کی کوئی شرط نہیں ہے، وہ اپنی مرضی سے دے رہا ہے۔
واضح ہو کہ قرض دیتے وقت اگر زیادتی کی بات آپس میں طے نہ ہوئی ہو،اور نہ ہی اس طرح کا معاملہ معروف اور رائج ہو، تو مقروض اگر قرض کی واپسی کے وقت اپنی طرف سے کچھ زائد لٹا دے، تو یہ سود کی تعریف میں داخل نہیں، بلکہ یہ احسن ادائیگی میں آتا ہے ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک بھی یہی تھا، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مقروض شخص سائل سے قرض لیتے وقت زیادتی کے ساتھ واپسی کا ذکر نہ کرے، اور نہ ہی آپس میں یہ معاملہ مشروط ہو،بلکہ ادائیگی کے وقت وہ بخوشی کچھ زیادہ ادا کر دے، تو سائل کے لئے زائد رقم حلال ہوگی، حرام نہ ہوگی۔
كما في صحیح مسلم : عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع فقال: لم أجد فيها إلا خيارا رباعيا، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاء . (باب من استسلف شيئا فقضى خيرا منه، وخيركم أحسنكم قضاء، ج 5، ص 54، ط : دار الطباعة العامرة، تركيا)-
وفي رد المحتار : تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به. (كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج 5، ص 166، سعيد)-