السلام علیکم :
مفتی صاحب ایک مسئلہ ہے کہ ہماری شادی کو ایک سال ہوگیا ہے، ابھی سال کے بعدہماری لڑائی ہر روز ہوتی رہتی تھی ، اس کے بعد لڑکی کا والد ہمارے گھر میں آکر اپنی بیٹی کی طلاق مانگ رہا تھا ،اور اس کے والد کے کہنے اور لڑکی کے کہنے پر میں نے طلاق دے دی ہے ،اب اس کا حق مہر دینا ہوگا یا نہیں ؟عین نوازش ہو گی !
نوٹ : طلاق کے الفاظ یہ تھے ، طلاق طلاق ،طلاق ،
سائل نے جب اپنے سسر اور بیوی کے مطالبے پر مذکور الفاظ(طلاق ، طلاق ، طلاق ) تین مرتبہ کہہ دیے ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
جبکہ نکاح کے وقت فریقین (میاں بیوی )کے مابین جو حقِ مہر طے ہوا تھا،اگر سائل نے کل مہر یا اس کا کچھ حصہ ابھی تک ادا نہ کیا ہو،اور بیوی نے سائل کواپنا یہ حق معاف بھی نہ کیا ہو تو اب طلاق کی صورت میں سائل کے ذمہ طے شدہ کل مہر یا بقیہ حقِ مہر کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
کما فی الھندیۃ : (الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة) والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، كَذَا فِي الْبَدَائِع اھ (1/304)۔
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] فالمراد الطلقة الثالثة والثنتان في حق الأمة كالثلاث في حق الحرة الخ،والزوجية المطلقة إنما ثبتت بنكاح صحيح وشرط الدخول ثبت بإشارة النص وهو أن يحمل النكاح على الوطء حملا للكلام على الإفادة دون الإعادة إذ العقد استفيد بإطلاق اسم الزوج أو يزاد على النص بالحديث المشهور وهو قوله عليه الصلاة والسلام لا تحل للأول حتى تذوق عسيلة الآخر روي بروايات ولا خلاف لأحد فيه سوى سعيد بن المسيب رضي الله عنه وقوله غير معتبر حتى لو قضى به القاضي لا ينفذ والشرط الإيلاج دون الإنزال لأنه كمال ومبالغة فيه والكمال قيد زائد اھ (2/258) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0