کیافرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرا (عبد الجمیل ولد خستہ میر) نکاح وشادی مسماۃ صابرینہ عرف شاذمہ بنت نذیر گل سے مؤرخہ 7/4/2018 کو کراچی میں ہوئی، اور اس شادی سے میری تین بیٹیاں ہیں، میں نے اپنی بیوی کو عید الاضحی 2024 کے تیسرے دن عید کے موقع پر اپنے سسرال میں چھوڑا، اور مجھے بیوی نے بتایا کہ میں 4 ،5 دن گزاروں گی، میں نے کہا ٹھیک ہے، اور میں واپس اپنے گھر آگیا، اور 5دن بعد جب میں اپنی بیوی کو لینے اپنے سسرال گیا تو میرے سسر نے دورازہ کھولا، اور آتے ہی مجھ سے کہا یہ آپ نے کیا کیاہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں نے کیا کیا ہے؟ تو میرے سسر نے کہا کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس پر میں نے جواب دیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے، لیکن میرے سسر نے بتا یا کہ آپ نے ایک سال پہلے جب میری بیٹی حاملہ تھی، اس وقت طلاق دی تھی، اور اب آپ نے عید الاضحی سے ایک ماہ یا 20 دن پہلے طلاق دی ہے، میرے سسر نے کہا کہ آپ نےغصہ میں طلاق دی ہوگی، یا پھر محبت میں ، جس پر میں نے کہا میرا اپنی بیوی سے کوئی لڑائی جھگڑا ہی نہیں ہوا ہے، اور نہ کوئی دوسری بات ہمارے درمیا ن ہے جس پر میں ان کو طلاق دوں، میرے سسر نے کہا آپکو قرآن کی قسم کھانی ہوگی، جس پر میں نے کلمہ پڑھ کر قرآن کی قسم بھی کھائی کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی،جس پر میرے سسر نے کہا کہ میں آپ کو جرمانہ بھی نہیں کرونگا، بس آپ مان لو کہ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے، اس پر میں نے کہا جرمانہ پر میں لعنت بھیجتا ہوں، حقیقت یہی ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے، پھر آپ کیوں پروپیگنڈہ کررہے ہیں، اس کے بعد میں نے اپنے سسر سے کہا میری بیوی کو سامنے لیکر آؤ، جب میری بیوی آئی تو اس وقت میں نے اپنے سسر کےگھر میں اپنی بیوی سے اس کے والد، والدہ، ایک بڑی بہن اور تین بھائیوں کے سامنے پوچھا کہ تم ان سب کے سامنے قسم کھا کر بتاؤ کہ میں نے آپ کو طلاق دی ہے یا نہیں؟ جس پر میری بیوی نے ان 6 لوگوں کے سامنے یہ اقرار کیا کہ آپ نے مجھے طلاق نہیں دی ہے، اور میں تو واپس آرہی تھی، لیکن والد نے زبردستی دو دن زیادہ گزروائے، آپ ناراض مت ہونا، اس کے بعد میری ساس نے کہا کہ اب مزید قسمیں جمیل کو مت دو،جس کے بعد سب گھر والوں نے میرے ساتھ بیٹھ کر چائے پی اور معاملہ ختم ہوگیا، اس کے بعد میرے سسرنے کہا میں اپنی بیٹی کو دو دن بعد لے آؤ نگا، لیکن میری بیوی نے کہا میں ابھی شوہر کے ساتھ جاؤنگی،اور میرے سسرنے اپنی بیٹی کو 500 روپے بھی دیے،اورمیرے ساتھ خوشی خوشی اپنی بیٹی کو روانہ کردیا، میری بیوی نے کہا کہ آپ ایسا کرو کہ آپ میرےوالد صاحب سے کہو کہ صابرینہ عرف شازمہ میری بات نہیں سنتی، اور نہ ہی میرا کہا مانتی ہے، اس لئے میں اس کو طلاق دیدونگا، جس پر میں نے کہا کہ میں ایسا کیوں بولوں، جبکہ میرے دل ودماغ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود آپکے والد نے میری بے عزتی کی ہےاور میرے اوپر غلط الزام لگایا، اور گھر تک یہ بحث و مباحثہ چل رہا تھا، اس کے بعد میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ اپنے گھر واپس لے آیا، اس کے تین دن بعد میری ساس ہمارے گھر اپنی بیٹی سے ملنے آئی اور خوشی سے کچھ وقت گزارا، اور پرانی باتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا، بس اپنی بیٹی سے مل کر واپس چلی گئی، اس کے چار دن بعد میرا سسر نذیر گل اپنی بیٹی سے ملنے میرے گھر آیا، جہاں پر میرے سسر نے دوبارہ میرے والد کے سامنے کہا کہ آپ نے میری بیٹی کو طلاق دیدی ہے، جس پر میں نے دوبارہ کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے، اس بات پر میرے والد صاحب نے بھی میرے سسر سے کہا کہ آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں، اپنی اور ہماری عزت کا کچھ تو خیال رکھو، جس پر میرے سسر نے کہا کہ اگر جمیل نے طلاق نہیں بھی دی ہےتو میں زبردستی جمیل سے طلاق لوں گا، اور ہمارے گھرمیں شور شرابہ شروع کردیا کہ میں زبردستی اپنی بیٹی کو یہاں سے لے جاؤں گا، جس پر میرے والد نے میرے سسر سے کہا کہ آپ کچھ دیر رکو، میں اپنی بہو سے پوچھ کر آتا ہوں، میرے والد اسی وقت گھر کی بالائی منزل میں گئے اور اپنی بہو سے پوچھا کہ آپ اللہ سے ڈرو اور سچ سچ بتاؤ، کیا جمیل نے آپکو طلاق دی ہے؟ جس پر بہو نے کہا کہ جمیل نے مجھے طلاق نہیں دی ہے،لیکن میرے منہ سے میرے والد کے سامنے غلطی سے نکلی ہے، اب اگر میں انکار کرتی ہوں، تو وہ مجھے جان سے مار دینگے، اور میرا والد پاگل ہے، ابھی مجھے ان کے ساتھ جانے دو، اور میں خود ہی انکو راضی کر لونگی، اور واپس آجاؤنگی، جس پر ہم شازمہ کو انکے والدصاحب کےساتھ جانے پر راضی ہوئے، میرے والد نیچے میرے سسر کے پاس آئے اور بتایا کہ شاذمہ نے اقرار کیا ہے کہ جمیل نے مجھے طلاق نہیں دی ہے، لیکن وہ آپ سے ڈرتی ہے، جس پر میرے سسر نے کہا بات ایسی ہے کہ آپ کے بیٹے جمیل نے میری بیٹی شاذمہ کو طلاق دی ہے، اس بات کی گواہ آپ کی بیوی یعنی جمیل کی ماں ہے،لیکن جب میری والدہ سے پوچھا گیاتو اس نے کہا میرے سامنے جمیل نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے، اس کے بعد میرا سسر اپنی بیٹی شاذمہ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا، اور 6 ہفتے گزرنے کے باوجود وہ واپس نہیں آئی ہے، جس پر ہم نے چند معزز لوگوں کو بھیجا، لیکن نذیر احمد اپنی بات پر بضد ہے ، نہ قانون، نہ جرگہ اور نہ ہی شریعت کو مانتاہے،اور نہ ہی اس مسئلہ کے حل کے لئے علماء کے پاس جانے کے لئے تیار ہے،بلکہ مجھے صفائی کا موقع دیے بغیر میرے اوپر طلاق کا جھوٹا دعوی کر رہے ہیں، جس سے میں اور میری پوری فیملی شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں، کیونکہ میری تین چھوٹی چھوٹی بچیاں ہیں، اور میری بیوی اپنے ساتھ صرف سب سے چھوٹی بیٹی کو لیکر گئی ہے، اور دو بیٹیاں جان بوجھ کر چھوڑ گئی ہے، لہذا میرے مسئلہ میں میرے سسر اور میری بیوی دونوں کو بلاکر شرعی طور پر میرے اس مسئلہ کو حل کریں، یا پھر شرعی طور پر اس بات پر فتوی دیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی ہے،لیکن میرا سسر بضد ہےکہ طلاق ہوگئی ہے، جس پر شرعی فتوی درکار ہے، اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔ آمین
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتاہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہوکہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کا سسر (نذیر گل) اپنے داماد سائل مسمی عبد الجمیل ولد خستہ میر کے خلاف طلاق دینے کا دعوٰی کررہاہے، جبکہ اس کے پاس اپنے دعوٰی کو ثابت کرنے کے لئے شرعی گواہان نہیں ہیں، اور زوجین اس دعوٰی کے منکر ہیں، اور سائل کی والدہ بھی الفاظ طلاق سننے سے انکار کررہی ہے، چنانچہ ایسی صورت میں وقوع طلاق کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا، بلکہ دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار ہے، اور دونوں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں۔
تاہم اگر سائل کا سسر بلاوجہ فقط کسی عناد وغیرہ کی بناء پر اپنےداماد کے خلاف طلاق کا دعویٰ کر رہا ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً درست نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہا ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط طرز عمل سے باز آئے اور اپنی بیٹی کا گھر برباد نہ کرے، ورنہ اخروی پکڑ سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی،جبکہ بوقت ضرورت سائل کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔
کمافی صحیح البخاری: وقول الله تعالى: {لا خير في كثير من نجواهم إلا من أمر بصدقة، أو معروف أو إصلاح بين الناس، ومن يفعل ذلك ابتغاء مرضاة الله، فسوف نؤتيه أجرا عظيما}، وخروج الإمام إلى المواضع ليصلح بين الناس بأصحابه" الخ (ج3 صـ182 باب ما جاء في الإصلاح بين الناس " إذا تفاسدوا ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی اعلاء السنن: البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر (الی قولہ) ھذا الحدیث قاعدۃ کبیرۃ من قواعد الشرع الخ (ج15 صـ350 کتاب الدعوٰی ط: ادارۃ القرآن)۔
وفی شرح المجلۃ: البینۃ للمدعی والیمین علی من انکر (الی قولہ) ھذہ قاعدۃ فی المتخاصمین یکون احدھما مدعیا فقط فالحکم فیھا ان البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ المنکر- وفی بعض الدعاوی قد یکون کل من المتخاصمین مدعیا من وجہ، منکر من وجہ وذلک فی جمیع مسائل ترجیح البینات، لان کلا منھما یقرر دعوہ وینکر دعوی حصمہ، فالحکم فیھا ان البینۃ تطلب اولا من الطرف الراجح، فان اظھر العجز جمن الطرف المرجوح، فان عجز یحلف یحکم لہ انھا ملکہ ولا یعدل عن ھذہ القاعدۃ الخ (ج1 صـ217 ط: حقانیۃ)۔