نام رکھنے کا حکم

زمل نام رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
76769
| تاریخ :
2024-07-22
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

زمل نام رکھنے کا حکم

میری بیٹی کا نام زِمَل ْہے اسکے نام کا مطلب صحیح نہیں آرہا کہیں اور سے معلوم کروایا ہے، آپ رہنمائی فرمائیں کے یہ درست ہے یا نہیں، اگر نہیں تو میں زوہل رکھنا چاہتی ہوں یہ کیسا رہے گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

"زمل"کے معنیٰ ہیں "بوجھ،کمزور،سست وکاہل " اور زوہل کے معنی تلاش بسیار کے باوجود کسی مستند کتاب میں نہیں مل سکے ، اس لئےسائلہ کو ان دو ناموں کے علاوہ صحابیات یا نیک عورتوں میں سے کسی کے نام پر بیٹی کا نام رکھنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القاموس الوحید: "الزمل" بوجھ،کمزور،سست و کاہل(ص587،ط:ادارہ اسلامیات)۔
و فی رد المحتارتحت: (قوله أحب الأسماء إلخ) هذا لفظ حديث (الی قولہ) ويلحق بهذين الاسمين أي عبد الله وعبد الرحمن ما كان مثلهما كعبد الرحيم وعبد الملك، وتفضيل التسمية بهما محمول على من أراد التسمی بالعبودية، لأنهم كانوا يسمون عبد شمس وعبد الدار، فلا ينافي أن اسم محمد وأحمد أحب إلى الله تعالى من جميع الأسماء الخ (کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 6، ص 417، ط: سعید) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76769کی تصدیق کریں
0     1427
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات