جناب مفتیان بنور یہ صاحبان !کیا فرماتے ہیں علمائے حق اس مسئلہ کے بارے میں میں نے اپنے بھتیجے کا نام عمار رکھا اور بھتیجی کا نام حفصہ ماں باپ اپنی اولاد کو سب سے پہلے جو تحفہ دیتے ہیں وہ نام ہی ہے ،اس چیز کو بنیاد رکھتے ہوئے میں نے عمار جو کہ مشہور صحابی رضی اللہ عنہ ہیں اور حفصہ صحابیہ بھی ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی بھی حضور صلی اللہ علیه وسلم کی بیوی ہونے کی نسبت تمام مومنین کی ماں بھی، اب میرے بھائی کو کسی عامل دوست نے یہ بتایا کہ یہ دونوں نام (عمار اور حفصہ) ہیں تو بہت مقدس نام پر یہ ان بچوں کیلئے ٹھیک نہیں اور ان بچوں کے نام تبدیل نہ کیے گئے تو مستقبل میں ان کیلئے بہت پریشانی وغیرہ ہوگی، تو میرے بھائی نے اپنے عامل دوست کے کہنے پر عمار کا نام ضرار اور حفصہ کا نام زم زم رکھ دیا، کیا کوئی ایسا علم ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ نام اس بچے کیلئے ٹھیک ہے کہ نہیں، اور اگر ایسا ہے تو پھر عوام اس سے بے خبر کیوں ہے ؟ اور اس طرح ان مقدس ہستیوں کو بنیاد بنا کر بچوں کے نام رکھنا اور پھر اسطرح بدل دینا کیا یہ جائز ہے؟ شریعت کا اس بارے میں ہم مسلمانوں پر کیا حکم لاگو ہوتا ہے ؟برائے مہربانی جواب جتنی جلدی ہو سکے تفصیل کیسا تھ عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ والدین پر اولاد کی ذمہ داریوں میں سے پہلی ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ ان کا ایسا نام رکھیں جس سے عبودیت ظاہر ہوتی ہو یا وہ کسی بزرگ و محترم ہستی پر دلالت کرتا ہو ، چنانچہ اس ذمہ داری کو ملحوظ رکھتے ہوئے مذکوردو نوں نام بہت منا سب اور اچھے نام ہیں ، انہیں بلا کسی وجہ شرعی کے تبدیل کرنا یا کسی عامل کا یہ قیاس باطل کہ یہ نام ان بچوں کیلئے درست نہیں ،اس کی دین سے دوری اور جہالت پر دلیل ہے، اس لئے جہلاء کی بات پر عمل کرتے ہوئے کسی محترم نام کا تبدیل کرنا قطعا درست نہیں، لہذا سائل کے بھائی پر لازم ہے کہ وہ ایسےجہلاء کے ساتھ مشورے کرنے اور ان کی باتوں پر عمل کرنے سے احتراز کرے، اسی طرح بچوں کے سابقہ نام ہی برقرار رکھنے کی کوشش کرے ۔