بخدمت جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
جناب سے گزارش ہے کہ میرا میری زوجہ سے گھر میں آپس میں تلخ کلامی ، بد اخلاقی، نوک جھونک کے دوران میں نے اپنی زوجہ کو ایک ہی جگہ کھڑے تین بار طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے، الفاظِ طلاق یہ تھے " طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے" لہٰذا آپ جناب سے التماس ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، اس کے علاوہ کبھی طلاق کی نوبت نہیں ہوئی۔
نوٹ! لڑکے نے اس کے بعد غیر مقلدین سے فتوٰی لیا ہے، اس میں بھی ایک ساتھ تین طلاق کا لکھا ہے، اب لڑکا پچھتا رہا ہے، اگر کوئی حل ہو تو بتائیں۔
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں، جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہوں جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، بہر صورت اس سے قرآن و سنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے اور امت کے چاروں ائمہ( امام اعظم، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ )کا بھی یہی مسلک ہے، لہٰذاصورتِ مسئولہ میں نکاح و رخصتی کے بعد جب سائل نے اپنی بیوی سے مذکور الفاظ " طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے " تین دفعہ کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پرتینوں طلاقوں کے ذریعے حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرجانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اب اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ ( سورۃ البقرۃ)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج ۱ ص ۳۵۵ ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ۱ ص ۴۷۳ ط: ماجدیہ) ۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0